اقوام عالم وائرس کی نئی وبا کیلئے تیار رہیں: ڈبلیو ایچ او

   

Ferty9 Clinic

جنیوا ۔ 26 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام ) کورونا وائرس کی نئی وبا مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔ یورپ میں اٹلی کے بعد جرمنی، کروشیا، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ میں بھی اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اقوام عالم کووڈ انیس
(COVID-19)
وبا کے لیے تیار رہیں اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق غریب ممالک میں اس وبا کے پھیلنے اور جانی نقصان کا خطرہ موجود ہے۔ ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اس وائرس کے مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو کووڈ انیس کا نام دیا ہے۔چین کا دورہ کرنے والی عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کی ٹیم اب واپس اپنے صدر دفتر پہنچ چکی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم کے سربراہ بروس ایلوارڈ نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی حکام کی اس وبا کو قابو کرنے اور ہزاروں لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے اقدام کو بہتر قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دنیا اس وبا کے اچانک پھیلنے کے لیے بالکل تیار نہیں اور اس کو قابو کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔جرمنی کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ہائنس برگ سے تعلق رکھنے والے اس مریض کا ڈسلڈروف کے ایک ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس مریض کی حالت نازک ہے۔اس کی اہلیہ کو بھی زیر علاج رکھا گیا ہے۔ تاہم اس میں ابھی تک کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حکام اس دوران معلوم کرنے کی کوششوں میں ہیں کہ گزشتہ دنوں کے دوران اس جوڑے نے کن کن افراد سے ملاقاتیں کی ہیں۔ کورونا کی تشخیص کے بعد ہائنسبرگ کے علاقے میں اسکول اور سرکاری دفاترآج بند رہیں گے۔ایران کے نائب وزیر صحت ایرج ہریرچی بھی وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد کوارنٹائن کر دیے گئے ہیںاسی طرح صوبہ باڈن وورٹمبرگ میں بھی ایک پچیس سالہ نوجوان میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان اطالوی شہر میلان کی سیر سیاحات کے بعد جرمنی پہنچا تھا۔ یورپ کے مختلف ممالک میں تین سو مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہے۔ فرانس اور جرمنی میں بھی نئے مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جو شمالی اٹلی سے واپس پہنچے ہیں۔