بتدریج شخصی ملاقاتیں شروع کرنے کا بھی منصوبہ ۔ اجلاس کے شرکاء کا اظہار مسرت
اقوام متحدہ ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس تقریبا سات ماہ بعد پہلی مرتبہ اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرس میں اپنے چیمبر میں منعقد ہوا ۔ یہ اجلاس نیویارک میں مارچ میں کورونا وباء کے پھیلنے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے چیمبر میں کل رات منعقد ہوا تھا ۔ امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے کہا کہ اپنے گھر ( چیمبر ) میں واپسی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کونسل کے اجلاس کے بعد واپس ہوتے ہوئے کہا کہ ہم سب سماجی فاصلے کے اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں تاہم اجلاس میںشرکت کرکے خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ جرمنی کیسفیر برائے اقوام متحدہ کرسٹوف ہیوسگن نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اجلاس میں شرکت کرے خوشی ہوئی ہے ۔ ہیوسگن وہ سفارتکار رہے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے سلامتی کونسل اجلاس باضابطہ طور پر چیمبر میں منعقد کرنے کی وکالت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اپنے چیمبر میں واپسی ہوئی ہے اور وہاں پہونچنا بہترین رہا ہے ۔ بیشتر اداروں اور تجارتی کانفرنسوں کی طرح سلامتی کونسل کو بھی اس وباء کی وجہ سے ورچول اجلاس منعقد کرنے پڑ رہے تھے تاہم سفارتی مہم کا ایک دوسرے سے ملاقات اور دوبدو مذاکرات میں زیادہ انحصار ہوتا ہے اور سات ماہ کے وقفہ کے بعد باضابطہ اجلاس منعقد کرنے کیلئے دباو میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ ہیوسگن کونسل کے ارکان کو شخصی ملاقات کیلئے تیار کرنے میں کامیاب رہے تھے اور انہوں نے چیمبر ہی میں اجلاس منعقد کرنے دوسروں کو رضامند کرنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ۔ یہ اجلاس اس حقیقت کے باوجود منعقد ہوا کہ اقوام متحدہ کے عملہ کی اکثریت اب بھی اپنے گھروں سے کام کر رہی ہے ۔ فرانس کے سفیر برائے اقوام متحدہ نکولاس ڈی ریوئیرے نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اپنے چیمبر میں اجلاس منعقد کرنا بہت اچھی بات رہی ہے اور تمام سفیروں نے ماسک لگائے تھے ۔ چہرے کی حفاظت کا انتظام کیا تھا ۔ ہر ملک سے اس اجلاس میں صرف دو سفارتکاروں کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے میں دو مرتبہ اس طرح کی ملاقاتیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے ۔ جنوبی افریقہ کے سفیر برائے اقوام متحدہ جیری مٹجیلا نے کہا کہ سلامتی کونسل نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے ۔ روسی سفیر واسیلی نبنزیا نے جو فی الحال کونسل کے صدر ہیں میڈیا سے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اجلاس میں شرکت کرکے سبھی خوش ہیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما سفر رہا ہے ۔
