نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 78 واں اجلاس پاکستان کوتنازعہ کشمیر، افغانستان کے بحران، اسلام مخالف پروپیگنڈے ، مشرق وسطی کے مسئلے، ماحولیات اورمعیشت سمیت بنیادی عالمی مسائل کے بارے میں اپنا نکتہ نظر پیش کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔یک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف کانفرنسوں کاانعقاد بھی ہوگا جن میں پائیدارترقیاتی اہداف کے بارے میں سربراہ کانفرنس ، ماحولیات کے بارے میں سربراہ کانفرنس اوروبائی امراض سے بچا، عالمی سطح پر طبی سہولتوں کی فراہمی اور ٹی بی کے مرض کے بارے میں سربراہ کانفرنسیں شامل ہیں جن سے ان بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستانی مندوب نے کہاکہ یہ دنیاکی تاریخ میں ایک نازک موقع ہے کہ ایشیا میں بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگیوں میں اضافہ ہوگیاہے اور کورونا اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ایشیائی ریاستوں کی اقتصادی صورتحال بگڑ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ترقی پذیرملک کے طورپرجنرل اسمبلی میں ہماری بھرپور توجہ شمالی ممالک کی طرف سے ترقی پذیرممالک کے ساتھ ماحولیاتی معاہدوں کویقینی بنانے پرمرکوز ہوگی جو ماحولیاتی اثرات کامقابلہ کررہے ہیں۔
روس خوراک کی عالمی قلت کو ہتھیار بنانے کو شاں : زیلنسکی
کیف : یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس خوراک کی عالمی قلت کو ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس یوکرینی بچوں کواغوا کرکے یوکرین سے نفرت سکھا رہا ہے، یہ واضح نسل کشی ہے۔ زیلنسکی کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ہمیں متحد ہو کر روس کو شکست دینی چاہیے۔ ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائی ان چیلنجز سے نمٹنے پر مرکوز کرنا ہوں گی۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس کو اپنی سرزمین پر واپس جانا چاہیے۔