اقوام متحدہ کاچار لاپتہ افغان خواتین کی رہائی کا مطالبہ

,

   

جنیوا ۔ او ایچ سی ایچ آر کی ترجمان لز تھروسل نے جنیوا میں مقیم صحافیوں کو بتایا کہ “ہم ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں ان لاپتہ خواتین اور ان کے خاندان کے افراد کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کیانسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر)نے افغانستان میں چار سرگرم خواتین کارکنوں اور ان کے رشتہ داروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنھیں طالبان کی اقتدر سنبھالنے کے بعد گزشتہ ماہ خواتین کے حقوق کے لیے مظاہروں کے بعد حراست میں لیا گیا یا اغوا کرلیا گیا تھا۔ او ایچ سی ایچ آر نے کہا ہے کہ ان چاروں خواتین کے بارے میں کوئی خبر نہیں انہیں کہاں رکھا گیا۔ جنھوں نے مبینہ طور پر 16 جنوری کو خواتین کے حقوق پر ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا تھا اور حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے کیسز کی معلومات فراہم کریں۔ او ایچ سی ایچ آر کی ترجمان لز تھروسل نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں ان لاپتہ خواتین اور ان کے خاندان کے افراد کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ہے۔ او ایچ سی ایچ آر نے کہا ہے کہ پروانہ ابراہیم خیل اور تمنا پریانی کو ان کے رشتہ داروں کے ساتھ انیس جنوری کو اغوا کیا گیا تھا، جبکہ مرسل عیار اور زہرہ محمدی کوگزشتہ ہفتہ پکڑا گیا تھا اور اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔