الزامات ثابت ہونے پر خود کو پھانسی پر لٹکا دوں گا: برج بھوشن

   

لکھنؤ۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن سنگھ جن پر خواتین پہلوانوں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان پر ایک بھی الزام ثابت ہو گیا تو وہ خود کو پھانسی دے دیں گے۔ ایک ویڈیو پیغام میں سنگھ نے کہا اگر مجھ پر ایک بھی الزام ثابت ہو جائے تو میں خود کو پھانسی پر لٹکا دوں گا۔ معاملہ دہلی پولیس کے پاس ہے، اس لیے میں اس معاملے پر زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرسکوں گا۔ میں پہلے دن سے یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر ان پہلوانوں کے پاس میرے خلاف کوئی ویڈیو ثبوت ہے تو آپ کسی سے بھی پوچھیں جو ریسلنگ سے وابستہ ہے کیا برج بھوشن راون ہے؟ سنگھ نے کہا کہ وہ دہلی سے گونڈا میں اپنے گھر جاتے ہوئے ویڈیو پیغام ریکارڈ کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا ان پہلوانوں کے علاوہ (جو احتجاج کر رہے ہیں)، کسی سے پوچھیں کہ کیا میں نے کچھ غلط کیا ہے؟ میں نے اپنی زندگی کے 11 سال اس ملک کو ریسلنگ کے لیے دیے ہیں۔ پہلوانوں نے الزام لگایا ہے کہ برج بھوشن سنگھ کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کو جاری کرنے میں حکومت کی طرف سے تاخیر ہوئی ہے۔ احتجاج کرنے والے پہلوان یہ بھی چاہتے ہیں کہ ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ سے ان کا قلمدان چھین لیا جائے۔ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر ایک نابالغ متاثرہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات سے متعلق ہے اور یہ پوکسو ایکٹ کے تحت درج کی گئی ہے، اس کے ساتھ ہی شائستگی کی توہین سے متعلق متعلقہ آئی پی ایسدفعات وغیرہ شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ایک فوری درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذکیا کہ ایف آئی آر درج کرنے سے احتجاج کرنے والوں کی طرف سے دائر درخواست کا مقصد پورا ہوا۔ عدالت نے درخواست گزارکی عدالت کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کی درخواست بھی مسترد کردی۔