اسرائیلی فوج کی وقفہ وقفہ سے ظالمانہ کارروائیاں۔ سخت موسم اور بارشوں سے بھی عام زندگی متاثر
العراقیب(فلسطین): گذشتہ کئی سال سے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا تواتر کے ساتھ نشانہ بننے والا العراقیب گاؤں ایک بار پھر مرتبہ مسمار کردیا گیا۔ جزیرہ نما النقب میں واقع فلسطینی قصبے العراقیب کی مسماری کا سلسلہ جولائی 2010ء کے بعد سے جاری ہے اور اب تک اسے236 بار مسمار کیا جا چکا ہے۔ گذشتہ روز کی انہدامی کارروائی میں صیہونی فوجیوں نے العراقیب گائوں کے باشندوں کے عارضی خیمے بھی اکھاڑ پھینکے اوران کی کرسیاں اور خیموں میں موجود دیگر سامان بھی لوٹ لیا۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب فلسطین میں موسم شدید خراب ہے اور بارشوں کا سلسلہ جاری رہے۔ العراقیب گاؤں کی تازہ مسماری کی کارروائی گذشتہ روز کی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج، پولیس اور اسپیشل فورسز کے سیکڑوں اہلکاروں نے بھاری میشنری اور بلڈوزروں کی مدد سے شہریوں کے مکانات کی مسماری شروع کی ور سیکڑوں فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر سخت موسم کے باوجود ان کی کچی جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا گیا۔ 2020ء میں اس گائوں کی یہ آٹھویں بار مسماری ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ انہدامی کارروائی سے قبل اسرائیلی فورسز کی کئی گاڑیاں وہاں آ کر رکیں جس کے بعد بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری وہاں لائی گئی اور چند منٹ کے اندر اندر فلسطینیوں کے عارضی شیلٹرز گرا دیے گئے۔ اسرائیل جنوبی فلسطین کے ان عرب دیہاتوں کے باشندوں کو صدیوں سے وہاں قیام پذیر ہونے کے باوجود غیرریاستی باشندے قرار دے کر وہاں سے نکالنا اور ان کی املاک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔