القاعدہ قائد کا ایران میں قتل ، اسرائیلی کارروائی

,

   

گروپ سے تعلق رکھنے والے کسی رکن کی ایران میں موجودگی کی تردید : ایران

واشنگٹن: القاعدہ تنظیم میں دوسرے نمبر کے لیڈر کی حیثیت رکھنے والے ابو محمد المصری عرف عبد اللہ احمد عبد اللہ کو قتل کرنے کی اطلاع ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں انٹیلی جنس کے حوالے سے لکھا ہے کہ 1998 میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں میں مدد دینے کے ملزم اور القاعدہ کے دوسرے نمبر کے رہنما عبد اللہ احمد عبد اللہ کو اگست میں ایران میں امریکی ایما پر کام کرنے والے اسرائیلی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ہفتے کے روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عبداللہ احمد عبداللہ 7 اگست کو تہران کی سڑک پر دو مسلح افراد کے ہاتھوں فائرنگ کا نشانہ بنا، دونوں افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق المصری اپنی بیٹی مریم سمیت مارا گیا جو حمزہ بن لادن (اسامہ بن لادن کا بیٹا) کی بیوہ تھی۔رپورٹ میں 4 با خبر ذمے داران کے حوالے بتایا گیا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی اور اس پر عمل درامد اسرائیل کی جانب سے کیا گیا۔ القاعدہ تنظیم نے المصری کی ہلاکت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی القاعدہ رہنما کی تہران میں ہلاکت کے حوالے سے رپورٹ ‘ من گھڑت’ اطلاعات پر مبنی ہے۔ ایران نے گروپ سے تعلق رکھنے والے کسی رکن کی ایران میں موجودگی کی تردید کی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران کے دشمن امریکہ اور اسرائیل جھوٹ بول کر اور میڈیا کوغلط اطلاعات فراہم کر کے علاقے میں القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے اور ایران کو ایسے گروپوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘یاد رہے کہ 58 سالہ المصری القاعدہ کے بانی ارکان میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے المصری کو کینیا اور تنزانیا میں اپنے سفارت خانوں پر ہونے والے دھماکوں سے متعلق جرائم کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

ان حملوں میں 224 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے المصری تک پہنچنے میں مدد گار ثابت ہونے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔جمعے تک المصری کی تصویر امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھی۔ ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے گفتگو میں امریکی اخبار کی خبر یا القاعدہ رہنما کی ہلاکت میں امریکہ کے ملوث ہونے کی تصدیق سے انکار کر دیا ہے۔