۲۱؍ اگست ، آج بعد نماز مغرب حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی دعوت پر المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے کانفرنس ہال میں “ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت کو دور کرنے اور اتحاد بھائی چار ہ کی فضا پیدا کرنے میں میڈیا کا رول” کے عنوان سے ایک خصوصی مشاورتی نشست منعقد ہوئی، مولانا رحمانی نے نشست کی صدارت کی ، ڈاکٹر نظام الدین نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا، مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نے اسلاموفوبیا کے تاریخی وفکری پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی، نشست میں پرنٹ میڈیا ، الکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا ، اردو، ہندی، انگریزی، تلگو سبھی کے نمائندہ موجود تھے، جن میں جناب میر علی ایوب خان، جناب مبشر الدین خرم،(روزمانہ سیاست) جناب محمد ریاض صاحب (سیاست ٹی، وی) جناب اطہر معین( منصف) سید نصیر غیاث، جناب شجاع الدین افتخار (اعتماد) جناب فاضل حسین پرویز (گواہ) جناب راحیل پاشا (ای ٹی وی) جناب نور محمد (ٹی وی 9)جناب محمد فصیح الدین (ساکشی ٹی وی) مشہور آزاد رپورٹر جناب ابو ایمل، جناب شہباز خان، جناب عبدالرزاق، جناب محمد آصف علی (روبی چینل) سید عمران (اردو دنیا)مولانا مقصود یمانی (الہلال) پروفیسر فریاد ، ڈاکٹر دانش خان (مانو) مولانا عثمان بیگ (زاد مسلم چینل) جناب فاروق (ساکشی ٹی وی) جناب جواد حقانی (ماہر تجزیہ کار) جناب عاصم افتخار (پی ایچ ڈی شعبہ صحافت)خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، سبھی حضرات نے گفتگو میں سر گرام حصہ لیا اور یہ بات طے پائی کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک کی مختلف زبانوں میں امن وامان کے پیغام کو عام کیا جائے، لوگوں کو محبت اور اتحاد کی دعوت دی جائے، تمام مذاہب کے احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں ان کو مدلل طریقہ پر مثبت انداز میں دور کیا جائے، سچائی بتائی جائے اور بعض چینلوں کے ذریعہ پھیلائے جانے والے جھوٹ کو دلیل کے ساتھ واضح کیا جائے، نیز جو خلاف واقعہ باتیں چینلوں سے نشر کی جاتی ہیں، ان کا رد ویڈیو، آٖڈیو اور تحریری میسیج کے ذریعہ کیا جائے اور ایسے بیانات پر کامنٹ کر کے بھی اس کی حقیقت کو واضح کیا جائے، صدر اجلاس نے اپنے خطاب میں کہا کہ در اصل جب کسی طبقہ کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی ہے تو وہ جھوٹ پھیلانے اور پروپیگنڈہ کرنے پر اتر آتی ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت جو لوگ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، ان کی صورت حال یہی ہے؛ اس لئے ہمیں ملک میں بھائی چارہ ، اتحاد اور ایک دوسرے کے احترام کا ماحول بنانا چاہئے، اور بحیثیت مسلمان اسلام کے بارے میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے، انھوں نے کہا کہ آج کی اس نشست کا مقصد کسی سیاسی گروہ کی تائید ہے نہ مخالفت، نہ کسی عقیدہ ومذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک میں صلح ومحبت کی فضا قائم ہو؛ تاکہ ملک کو ترقی حاصل ہو اور تمام باشندگان ملک بھائی بھائی بن کر زندگی گزاریں، صدر اجلاس کی دعاء پر نشست ختم ہوئی۔

