موافق ہندو تنظیموں سے نرمی کے برتاؤ کا انتظامیہ پر الزام ، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے منتخب نمائندوں کو گرفتار کرنے اپوزیشن قائدین کا مطالبہ
گلبرگہ : سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محترمہ ایشا پنت نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ الند ٹائون ضلع گلبرگہ میں منگل کے دن درگاہ حضرت لاڈلے مشائخ ؒ کے احاطہ میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قائدین سے مشاورت کے بعد 10ہندو قائدین اور سنتوں کوشیولنگ کی صفائی اور پوجا کی اجازت دی گئی تھی ۔انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر اشرار کی جانب سے پتھر بازی کے سبب بھگدڑ مچی تھی جس میں بہت سی موٹر گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا جن میں ڈپٹی کمشنر کے علاوہ خود ان کی کار اور ایم ایل اے کی کار کو نقصان پہنچنے کے علاوہ تین افراد زخمی بھی ہوگئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے اس وقت 167افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں پتھر بازی میں شامل 10خواتین بھی شامل ہیں ۔ ان سب کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا ۔ محترم ایشا پنت نے اس الزام کی تردید کی کہ اس واقعہ کے سبب دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ در اصل دو افراد کا اسی دن انتقال ہواتھا لیکن اس کی وجوہات دوسری تھیں ۔ اس دوران چہارشنبہ کے دن جگت سرکل پر احتجاج کرتے ہوئے جنتا دل سیکولر کے قائد ناصر حسین استاد علیم انعامدار ، حیدر علی باغبان نائب صدر تعمیر ملت گلبرگہ اور دیگر نے مطالبہ کیا تھا کہ گرفتار شدہ تمام معصوم افراد کو فوری رہا کیا جائے ۔ اس کے برخلاف انھوں نے بی جے پی کے قائدین بیدر کے رکن پارلیمینٹ بھگونت کھوبا ، ارکان اسمبلی دتاریہ پاٹل ریوور ، راج کمار پاٹل تیلکور ، بسواراج متی موڑو اور سری راما سینا کے اعزازی صدر بسونت کھوب کھوبا کو امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جائے ۔ انھوں نے ضلعی انتظامیہ پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس نے چند قائیدین کو لاڈلے مشائیخ درگاہ کے احاطہ میں ایشور لنگا پوجا کی اجازت دی جس کے سبب اس طرح کے پر تشدد واقعات ہوئے ۔ اسی دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ ) کی قائید محترمہ نیلا کے کی قیادت میں پارٹی قائیدین مولا ملا، ضلعی یونٹ کے سیکریٹری بھیما شنکر مڈیال نے بھی دفتر ڈپٹی کمشنر کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے بیدر کے رکن پارلیمینٹ بھگونت کھوبا، ایم ایل اے راج کمار پاٹل تیلکور ، بسواراج پاٹل متی موڑو اور سبھاش گتہ دار کے خلاف امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے اور فرقہ وارانہ تنائو پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوے ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات دائیر کرنے کا مطالبہ کیا ۔کمیونسٹ پارٹی قائیدین نے ضلعی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ وہ اس موقع پر موافق ہندو تنظیموں کے ساتھ نرمی کا برتائو کررہا تھا ۔ اگر انتظامیہ سختی برتتا تو ایسے واقعات ظہور پذیر نہیں ہوتے ۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے رکن ہنومنت بھسنور نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ الند میں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عوام کے منتخب نمائندوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ اسی دوران ضلعی انتظامیہ نے الند میں امتناعی احکامات کو ہفتہ تک وسعت دے دی ہے ۔