راشن کارڈ خاتون کے نام سے ہونے کی شرط ، لاکھوں درخواستیں مسترد ، عوام میں ناراضگی
مختلف وجوہات سے 19 لاکھ راشن کارڈ منسوخ ، 10 سال سے نئے راشن کارڈس جاری نہیں ہوئے ، 15 لاکھ درخواستیں زیرالتواء
حیدرآباد : /5 ستمبر (سیاست نیوز) حکومت نے گروہا لکشمی اسکیم پر ستمبر کے دوسرے ہفتہ سے عمل کا فیصلہ کیا ہے اور ریاست کے ہر اسمبلی حلقہ سے 3 ہزار افراد کا انتخاب کرنے احکام جاری کئے گئے مگر اس اسکیم کو راشن کارڈ سے جوڑنے اور کارڈ خاتون کے نام سے ہونے کی شرط سے لاکھوں درخواستیں مسترد کردی جارہی ہیں جس سے عوام میں ناراضگی پائی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 10 سال سے حکومت نے نئے راشن کارڈ جاری نہیںکئے ۔ انتخابات سے عین قبل حکومت نے گروہا لکشمی اسکیم کا اعلان کیا اور اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکانات کی تعمیرات کیلئے تین مرحلوں میں 3 لاکھ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اسکیم سے استفادہ کیلئے سخت قواعد نافذ کئے گئے ۔ اراضی خاتون کے نام پر ہونے احکام جاری کئے گئے ہیں اور ساتھ ہی راشن کارڈ لازمی قرار دیا گیا ۔ راشن کارڈ خاتون کے نام پر ہونے کی شرط ہے جس سے لاکھوں درخواستیں مسترد ہورہی ہیں ۔ می سیوا مراکز میں درخواستوں کے ادخال کے موقع پر 40 روپئے فیس وصول کی جارہی ہیں جو غریب عوام پر جہاں بوجھ ثابت ہورہا ہے وہیں خزانے میں بھاری رقم جمع ہورہی ہے ۔ اس اسکیم کیلئے حکومت کو لاکھوں درخواستیں وصول ہوئی ہیں ۔ ان تمام درخواستوں میں زیادہ تر درخواستیں راشن کارڈ نہ ہونے پر مسترد کردی جارہی ہیں ۔ حکومت نے 2014 ء کے بعد تمام غریب عوام کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ 10 سال میں 3 لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات بھی تقسیم نہیں کئے ۔ اس کے بعد جن کے پاس اراضی ہے انہیں مکانات کی تعمیر کیلئے تین مرحلوں میں 3 لاکھ روپئے دینے کا وعدہ کرکے گروہا لکشمی اسکیم کو متعارف کرایا مگر اس اسکیم کیلئے سخت شرائط ہیں جو اسکیم سے استفادہ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اسکیم کو راشن کارڈ سے جوڑ دیا گیا ۔ سال 2014 ء میں حکومت تشکیل دینے کے بعد نئے راشن کارڈ کی اجرائی میں صدر خاندان کی حیثیت سے خاتون کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں جاری راشن کارڈس پر ڈبلیو اے نامی کوڈ نمبرس ہوا کرتے تھے جس کو 2016 ء میں تلنگانہ حکومت نے برخواست کردیا اور اُس وقت متحدہ 10 اضلاع کے راشن کارڈس کے نمبرات تبدیل کردیئے ۔ اس عمل اور دیگر وجوہات کے باعث 19 لاکھ راشن کارڈس منسوخ ہوگئے ۔ سپریم کورٹ نے منسوخ کردہ راشن کارڈس کو دوبارہ جاری کرنے کی حکومت کو ہدایت دی اس پر کوئی عمل نہیں ہوا ۔ان 10 سال میں نئے راشن کارڈس کیلئے حکومت کو 15 لاکھ درخواستیں ملیں جو پاس زیرالتواء ہے ۔ تاہم حکومت نے سال 2021 ء میں 3.11 لاکھ کارڈس کو منظوری دی ۔ نئے راشن کارڈس کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں گروہا لکشمی اسکیم سے استفادہ کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ن