تاریخی شہر کے 170 سالہ قدیم اسکول کے طلبائے قدیم کی ری یونین تقریب ، ASAANA کی 20 ویں سالگرہ کا انعقاد
شکاگو ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد دکن کے باوقار تعلیمی اداروں کا جب حوالہ دیا جاتا ہے یا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ ذکر آل سینٹس ہائی اسکول کے بغیر نا مکمل رہتا ہے ۔ حیدرآباد کے اس باوقار تعلیمی ادارے نے ملک و قوم کو ایسے گوہرِ نایاب عطا کئے ہیں جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں بالخصوص امریکہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے ہیں اور ان کی کامیابیوں و کارناموں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ امریکہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والوں میں آل سینٹس ہائی اسکول کے طلبائے قدیم کی ایک کثیر تعداد شامل ہیں جس کا ثبوت وہاں قائم آل سینٹس المنائی اسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ ( ASAANA ) ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ( ASAANA ) کے بانی و صدر انجینئر امیر محمد علی خاں نے آل سینٹس المنائی اسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کی 20 ویں سالگرہ اور طلبائے قدیم کی ری یونین تقریب سے خطاب میں کیا ۔ الینوائے کے ایڈیسن میں واقع شالیمار بینکویٹ میں منعقد کی گئی اس پر وقار محفل میں امریکہ اور مختلف ممالک سے آل سینٹس ہائی اسکول کے طلبائے قدیم نے شرکت کی ۔ انجینئر امیر محمد علی خاں نے اپنے مادر علمی آل سینٹس ہائی اسکول اور اس کے فارغ التحصیل طلباء کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ 1855 میں آصف جاہ چہارم نصیر الدولہ بہادر کی درخواست پر ریورینڈ ڈانیل مرفی نے اُسے قائم کیا اور 1932 میں اس تاریخی اسکول کو سینٹ گیبرئیل کے ماونٹ فورٹ برادرس کے حوالے کردیا گیا ۔ واضح رہے کہ آل سینٹس ہائی اسکول کے طلبائے قدیم میں خالد عبدالقیوم ، ایم وی سریدھر ، محمد اظہر الدین ، نوئیل ڈیوڈ ، وینکٹ پتی راجو اور سندیپ گوڑ جیسے مشہور و معروف کرکٹرس ، مرحوم منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں اور ڈاکٹر مظہر الدین علی خاں مرحوم اور آنجہانی سیتارام یچوری جیسی شخصیتیں شامل ہیں ۔ (ASAANA) کی اس غیر معمولی تقریب میں جس کی کارروائی ڈاکٹر شان خان نے چلائی اور آخر میں ڈاکٹر دنیش مہیندرا نائب صدر نے شکریہ ادا کیا ۔ آل سینٹس کے ان کئی ایک طلباء قدیم کو 3 زمروں کے ایوارڈس پیش کئے گئے ۔ جنہوں نے مختلف شعبہ حیات میں کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں ۔ ان شخصیتوں میں موہن امباٹی ، باسط بیگ ، منی چیریان ، کرھاکے کیرا ، محمد وقار الدین قریشی ، پشوپتی ناتھ پالا ، سید نور الحسن موہانی ، ڈاکٹر محمد عبدالقادر صدیقی محمد لیاقت اللہ خاں ، سریندر سنگھ ماکھیجا ، چنا لکشمی پتی ، ڈاکٹر محمد عبدالباسط انجینئر محمد ایوب مجاہد ( تمام کوآنرس ایوارڈ ) ، ڈاکٹر انگم پلی راجیو ، ڈاکٹر سلطان سکندرعلی خاں ، ڈاکٹر محمد عبدالمجید ، میر ذوالفقار علی ، اے ٹی ایم یحییٰ ، محمد عبدالمقتدر زمرد حسین ، غضفر علی ، ڈاکٹر سنجے کرتا نے ( تمام کو کارہائے نمایاں ایوارڈس ) شامل ہیں جب کہ بانی و صدر ASAANA انجینئر امیر محمد علی خان ، دنیش مہیندرا ، مشتاق احمد ، ظہیر صدیقی ، وجاہت خاں ، ڈاکٹر شان خان ، جناب عثمان علی عبدالعظیم خاں اٹارنی ، ظفر صدیقی سراج علی ، منوج گھاتوڈ ، سنجے سریواستو ، ( تمام کو ایوارڈ ستائش ) پیش کئے گئے ۔ الینوائے ڈسٹرکٹ کورٹ جج جان سی اینڈرسن مہمان خصوصی تھے لیکن ان کے غیاب میں ان کی نمائندگی KEN DELAC ( الینوائے کے پوٹیکل ڈائرکٹر ) نے کی جب کہ لیک کاونٹر ٹرینر Holly Kin اور کانگریس ویمن Marie Newman نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کرتے ہوئے آل سینٹس ہائی اسکول کی خدمات اور اس کی وراثت کی زبردست ستائش کی ۔ اس موقع پر ASAANA کی جانب سے پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تقریب کو یادگار اور پر اثر بنانے میں وسیم افتخار اور ارشاد انصاری نے اہم کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر محمد عبدالحئی کو بھی خصوصی ایوارڈ عطا کیا گیا ۔۔