الیکشن سے قبل ہی بی جے پی نے تلنگانہ میں شکست کو تسلیم کرلیا

   

بی جے پی کے اقتدار کا امکان نہیں، نشستوں کی تعداد میں اضافہ ممکن، مرکزی وزیر نتن گڈکری کی حقیقت بیانی
بی جے پی حلقوں میں ناراضگی، وزیر اعظم کے دورہ سے عین قبل بیان موضوع بحث

حیدرآباد۔/2 جولائی، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے قومی اور ریاستی قائدین تلنگانہ میں اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی برسراقتدار آئے گی لیکن بی جے پی کے سابق قومی صدر اور مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے تلنگانہ میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے۔ قومی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے امکانات کافی کم ہیں جبکہ پارٹی ریاست میں اہم اپوزیشن کا رول ادا کرے گی۔ نتن گڈکری کے اس بیان سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ بی جے پی نے الیکشن سے قبل ہی اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ نتن گڈکری نے کہا کہ بی جے پی ارکان اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور تلنگانہ میں پارٹی اہم اپوزیشن بن کر اُبھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تلنگانہ میں مضبوط ہوں گے اور اہم اپوزیشن کے طور اُبھریں گے، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو پارٹی کیلئے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ نتن گڈکری کے اس بیان کے بعد بی جے پی کے حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے قائدین نے اس معاملہ کو پارٹی ہائی کمان سے رجوع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نتن گڈکری کے بیان سے پارٹی کارکنوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی صدر جے پی نڈا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسراقتدار آئے گی۔ نتن گڈکری جو بی جے پی میں اپنی تلخ نوائی کیلئے شہرت رکھتے ہیں‘ انہوں نے قیادت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تلنگانہ کی حقیقی تصویر پیش کردی ہے۔ کرناٹک کے نتائج کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف کمزور ہوا ہے اس کے علاوہ پارٹی قائدین کے داخلی اختلافات بھی ہائی کمان کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔ قلعہ گولکنڈہ پر زعفرانی پرچم لہرانے کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کو نتن گڈکری کے بیان سے جھٹکہ لگا ہے۔ نتن گڈکری نے صاف کردیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی اس طرح کا ماحول بی جے پی کیلئے ساز گار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے 8 جولائی کو دورہ تلنگانہ سے عین قبل نتن گڈکری نے اپنے بیان کے ذریعہ پارٹی قائدین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی قیادت نے اس مسئلہ کو ہائی کمان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ نتن گڈکری کے ذریعہ وضاحت کرائی جائے۔ر