الیکشن والی ریاستوں میں کورونا ویکسین لگانے پر زور

,

   

اومی کرون کے پیش نظر گھر گھر ویکسینیشن کا بھی مشورہ ، ہاسپٹل بیڈس اور ایمبولنس جیسی سہولتیں بڑھانے کی تاکید

نئی دہلی :مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ جن ریاستوں میں جلد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں کووڈ ٹیکہ کاری جلد مکمل کی جانی چاہیے ۔ مرکزی حکومت نے کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے بڑھتے کیسز کے پیش نظرریاستوں سے کہا ہے کہ وہ کووڈ پروٹوکال پر سختی سے عمل کریں اور ضلع سطح پر نگرانی میں اضافہ اور گھر گھر جاکرکووڈ ویکسینیشن کریں۔صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ریاستوں کے ساتھ کووڈ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ میں کہا کہ مستقبل میں اسمبلی الیکشن میں جانے والی ریاستوں میں کورونا ٹیکہ کاری پر زور دیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا جن اضلاع میں کووڈ ٹیکہ کاری قومی اوسط سے کم ہے ، وہاں بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مارچ 2022 تک اترپردیش، اتراکھنڈ، گوا، پنجاب اور منی پور میں اسمبلی انتخابا ہونے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق منی پور میں کورونا ٹیکہ کاری قابل اطمینان نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ریاستوں کو کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل کرنے اور ضلع سطح پرنگرانی بڑھانے اور گھرگھر ٹیکہ کاری کی ضرورت ہے ۔ میٹنگ میں کووڈ سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور ریاستوں کو اومی کرون کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر چوکس رہنے کا مستعد رہنے کی صلاح دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آنے والے تہواروں کے پیش نظر مقامی پابندیوں پر غور کیا جائے ۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اسپتالوں میں بیڈ کی گنجائش، ایمبولینس جیسی سہولیات میں اضافہ کریں اور مریضوں کی آسانی سے نقل و حرکت (ٹرانسپورٹ) کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ آکسیجن کے آلات کی نظامت اور ضروری ادویات کا ذخیرہ کم از کم 30 دن تک رکھا جائے ۔مسٹر بھوشن نے کہا کہ موجودہ رہنما خطوط کے مطابق خانہ قرنطینہ (ہوم کوارنٹائن) اور آئسولیشن کو سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں نے کووڈ ٹیسٹ سہولیات کو بند کر دیا ہے ۔ ایسی ریاستوں کے پاس ڈاکٹروں اور ایمبولینس کی مناسب دستیابی کے ساتھ کووڈ کیسز میں اضافے کی صورت میں انھیں آپریشنل بنانے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر بھوشن نے کہا کہ ریاستوں کے ہیلتھ سکریٹریز روزانہ کی بنیاد پر کووڈ ریلیف پیکیج کے سلسلے میں مالی اخراجات کی صورتحال اور پیش رفت کی نگرانی کریں گے ۔انہوں نے مختلف اسٹڈیز (مطالعات) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکمل ٹیکہ کاری وبا کو سنگین ہونے اور مریض کو اسپتال میں داخل ہونے سے روکتی ہے لہذا ریاستوں کو ضلع سطح پر گھر گھر ٹیکہ کاری پر زور دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کووڈ اسپتالوں میں پوزیٹیوٹی ریٹ 10 فیصد سے زیادہ ہونے اور 40 فیصدبیڈ کے بھر جانے کے بعد ضلع انتظامیہ کو سخت مقامی روک تھام کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ان حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک تھام کے اقدامات کر سکتے ہیں اور پابندی لگا سکتے ہیں۔ کسی بھی پابندی کو کم از کم 14 دنوں کے لیے نافذ کیا جانا چاہیے ۔ ضلع انتظامیہ آر ٹی -پی سی آر کے درست تناسب کو یقینی بنائے ۔ یہ تناسب روزانہ کل ٹیسٹ کے لیے کم از کم 60:40 رکھا جانا چاہیے ۔ اسے 70:30 کے تناسب تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔