الیکشن کمیشن اور پولیس کی جانب سے سختی سے متعلق اعلانات بے اثر

   

پرانے شہر میں امتناعی احکام کی خلاف ورزی، سی سی ٹی وی کیمروں کا کوئی خوف نہیں، مقامی عہدیداروں کے رول پر سوالیہ نشان
حیدرآباد 30 نومبر (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کی جانب سے رائے دہی سے قبل سختی کے بارے میں جو دعوے کئے جارہے تھے وہ وہ رائے دہی کے موقع پر کھوکھلے ثابت ہوئے۔ الیکشن کمیشن اور پولیس نے بارہا یہ اعلان کیا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اور اندر سی سی ٹی وی کیمروں سے نظر رکھی جائے گی۔ شہر میں دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہیں گے۔ پولنگ اسٹیشنوں کے اطراف کسی کو جمع ہونے کی اجازت نہیں رہے گی اور تلبیس شخصی کی صورت میں فوری گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس نے اعلان کیا تھا کہ سڑک پر نکلتے وقت ٹو وہیلرس کے لئے ہیلمٹ اور دیگر دستاویزات ضروری رہیں گے۔ یہ تمام اعلانات آج شہر بالخصوص پرانے شہر میں بے اثر ثابت ہوئے اور رائے دہی پر پولیس اور الیکشن کمیشن کا کنٹرول شاید ہی دکھائی دے رہا تھا۔ صبح کے وقت میں پولیس نے کسی قدر سختی کا مظاہرہ کیا لیکن بتدریج حالات نارمل ہوگئے اور سابق کی طرح سرگرمیاں دکھائی دینے لگی۔ سیاسی کارکن اور حامی ہجوم کی شکل میں گھومتے رہے اور خواتین کے گروپس کو گاڑیوں اور آٹو رکشا کے ذریعہ پولنگ اسٹیشن منتقل کیا جانے لگا۔ گاڑیوں کی تلاشی مہم بھی دوپہر کے بعد سست پڑگئی اور ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے نارمل حالات ہیں اور لوگ بلاخوف و خطر گھوم رہے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ہجوم جمع تھا اور چند ملازمین پولیس خود کو بے بس محسوس کررہے تھے۔ ایسے اسمبلی حلقہ جات جہاں سخت مقابلہ درپیش ہے وہاں بعض پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل کیا گیا اور رائے دہندوں سے فوٹو شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات طلب کئے گئے۔ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹر سلپ کے بغیر بھی رائے دہی جاری تھی اور محض سیرئیل نمبر دکھاکر رائے دہندے ووٹ کا استعمال کررہے تھے۔ دوپہر 2 بجے کے بعد پرانے شہر کے پولنگ اسٹیشنوں پر مقامی جماعت کے کارکنوں کا عملاً کنٹرول ہوچکا تھا۔ یاقوت پورہ، ملک پیٹ اور نامپلی کے بعض حساس علاقوں میں پولیس کو سختی برتنی پڑی کیوں کہ مجلس کے مخالف امیدواروں نے بوگس رائے دہی کو روکنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے موقع پر حیدرآباد کے کمشنر پولیس سی وی آنند کا تبادلہ کرتے ہوئے سندیپ شنڈالیہ کو کمشنر مقرر کیا۔ عوام اُمید کررہے تھے کہ نئے کمشنر پولیس اپنی روایتی اُصول پسندی کے سبب انتخابی دھاندلیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ کمشنر پولیس نے اگرچہ اپنے عزائم واضح کردیئے تھے لیکن مقامی سطح کے پولیس عہدیدار کسی اور رنگ میں دکھائی دیئے۔ ظاہر ہے کہ جب تک مقامی سطح کے عہدیدار تعاون نہ کریں اُس وقت تک اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات پر عمل آوری ممکن نہیں ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اور اندرونی حصے میں سی سی ٹی وی کیمروں کے اعلان کے باوجود بوگس رائے دہی کو روکا نہیں جاسکا۔ ہجوم کی شکل میں مقامی سیاسی جماعت کے کارکن باہر اور اندر اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کو روکنا اور آزادانہ و منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن اور پولیس کی ذمہ داری ہے اور عوام تعاون کرنے کے لئے تیار بھی ہیں لیکن روایتی قیادتوں نے ماحول کو بگاڑ رکھا ہے۔