ووٹرلسٹ میں دھاندلیوں کے باوجود الیکشن کا اعلان غیر جمہوری، ایم پی سی سی صدر ہرش وردھن سپکال کا اجلاس
ممبئی 5 نومبر (یو این آئی ) مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاستی الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کے باوجود الیکشن کا اعلان کرنا جمہوری ذمہ داری سے منہ موڑنے کے مترادف ہے ۔ کمیشن نے یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا ہے کہ وہ جعلی ووٹروں کے ناموں کے سامنے ایک ‘اسٹار’ کا نشان لگا دے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان ناموں کو فہرست سے حذف کرکے ووٹر لسٹ کو صاف اور شفاف کیوں نہیں بنایا جاتا؟ اس کا جواب الیکشن کمیشن دینے سے قاصر ہے ۔ کمیشن کا طرزِ عمل بتا رہا ہے کہ وہ حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ تلک بھون میں آج ریاستی کانگریس کی صدارت میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، ۔ اس میٹنگ میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بلدیاتی اداروں کے مجوزہ انتخابات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ریاستی کانگریس کی انتخابی کمیٹی 12 اور 13 نومبر کو اجلاس منعقد کرے گی جس میں امیدواروں کے نام طے کیے جائیں گے۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ووٹ چوری کے ذریعہ بنی ہے اور کانگریس مسلسل اس غیر قانونی عمل کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن سے آل پارٹی وفد نے ملاقات کرکے ووٹر لسٹ درست کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کمیشن نے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں صاف و شفاف انتخابات کرانا کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے ، لیکن وہ اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اب عوام ہی ان لوگوں کو سبق سکھائیں گے۔ اس موقع پر کسانوں کے مقروض ہونے کی اذیت کو اجاگر کرنے والا ایک نغمہ بھی جاری کیا گیا۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو قرض معافی دے کر ان کا بوجھ کم کرے ۔ کسانوں کو خودکشی کے بحران سے نکالنے کیلئے قرض معافی کیساتھ عملی امداد فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ یہ نغمہ دراصل اسی پیغام کو اجاگر کرتا ہے کہ حکومت کسانوں کی فلاح کے لیے فوری اور مؤثر قدم اٹھائے ۔
’پھول والوں کی سیر‘ پر پابندی
کانگریس کی دہلی حکومت پر تنقید
نئی دہلی، 5 نومبر (یو این آئی) دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ دارالحکومت میں اس سال ہندو۔مسلم اتحاد کی علامت مغل دور کے تاریخی فیسٹول ’پھول والوں کی سیر‘ کا انعقاد نہ ہو پانا بی جے پی حکومت کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ روز دیویندر یادو نے الزام لگایا کہ دو سو سال سے ہر سال منعقد ہونے والا ’پھول والوں کی سیر‘ فیسٹول اس بار وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور لیفٹیننٹ گورنر وِنے کمار سکسینہ کی تنگ نظری اور اجازت نہ دینے کی وجہ سے منعقد نہیں ہو سکا۔ یہ فیسٹول 2نومبر سے شروع ہونا تھا۔
دو برس میں بی جے پی حکومت پوری طرح ناکام:کانگریس
باراں، 5نومبر (یو این آئی) راجستھان کے سابق نائب وزیراعلیٰ اور کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے چہارشنبہ کے روز باراں ضلع کے انتا اسمبلی حلقے میں کانگریس امیدوار پرمود جین بھایا کے حق میں انتا شہر سے سیسوالی تک روڈ شو کیا۔روڈ شو کے دوران کانگریس امیدوار پرمود جین بھایا اور ضلع صدر رام چرن مینا بھی ان کے ساتھ موجود تھے ۔ اس موقع پر سیسوالی میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ انتا علاقے میں زیادہ تر ترقیاتی کام کانگریس حکومت کے دور میں پرمود بھایا کے ذریعے کرائے گئے ہیں۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی کی نشست خالی ہونے کی وجہ سے یہ ضمنی انتخاب ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کوئی بھی لڑ سکتا ہے ، مگر انتخاب پُرامن طریقے سے ہونا چاہیے ۔پائلٹ نے کہا کہ بی جے پی کو ریاست میں اقتدار میں آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں، عوام نے بی جے پی کے اس دورِ حکومت کو دیکھ لیا ہے جو وعدہ خلافی سے بھرا رہا ہے ، اور لوگ اس کا بھی حساب کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی میں اندرونی اختلافات اور کھینچا تانی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں کے بی جے پی امیدوار کے ٹکٹ کی تقسیم میں بھی کافی تاخیر ہوئی۔
