الیکشن کمیشن ‘ سی بی آئی ‘ ای ڈی و انکم ٹیکس پر بی جے پی کا کنٹرول : راہول

,

   

ملک کے دولتمندوں کی فہرست میں ایک بھی دلت یا قبائلی شامل نہیں۔ ایک شخص ہی حلوہ بانٹ رہا ہے اور وہی حلوہ کھا رہا ہے ۔ رانچی میں خطاب

رانچی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور رائے بریلی، یوپی سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رانچی میں آئین کے اعزاز سے متعلق کانفرنس میں انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی قبائلیوں کی زمین چھیننا اور ان کی شناخت کو مٹانا چاہتی ہے۔اپنی تقریر کے دوران راہول گاندھی نے اشاروں کے ذریعے الیکشن کمیشن پر بھی طنز کیا۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے آئین پر کہا کہ آئین 70-80 سال پرانا نہیں ہے۔ آئین بنانے کے پیچھے ہزاروں سال پرانا خیال ہے۔یہ جو لڑائی جاری ہے وہ بھی ہزاروں سال پرانی ہے۔ جو لڑائی چل رہی ہے وہ آئین اور منوسمرتی کے درمیان ہے اور یہ لڑائی ہزاروں سال پرانی ہے۔ جب میں نے ملک کے امیر ترین لوگوں کی فہرست دیکھی تو اس میں دلت، قبائلی اور او بی سی کا نام کہیں نہیں تھا۔ ایک ہی شخص حلوہ بانٹ رہا ہے اور وہی حلوہ کھا رہا ہے۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ صدرجمہوریہ ایک آدی باسی ہیں، پہلی بار کوئی آدی باسی صدر بنا لیکن جب پارلیمنٹ کا افتتاح ہوا اور رام مندر کا افتتاح ہوا تو بھی انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک آدی باسی قبائلی ہیں۔ ان کی جگہ بڑے تاجر بلائے گئے، کیا یہ آئین کی توہین نہیں؟ کانگریس ایم پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی آئین کی حفاظت نہیں کر رہا ہے۔ بی جے پی ملک کی تمام ایجنسیوں کو کنٹرول کر رہی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن ‘ سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ‘ انکم ٹیکس جیسے محکمہ جات اور افسر شاہی پر کنٹرول کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس ادارے اور فنڈز کا کنٹرول ہے لیکن ہمارے پاس دیانتداری ہے ۔ کانگریس نے لوک سبھا انتخابات میں بغیر پیسے کے مقابلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دستور کو بی جے پی سے خطرہ ہے اور اس کی حفاظت کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دستور پر کئی گوشوں سے حملے ہو رہے ہیں اور ایسا کرنے والوں میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں۔ انتخابات سے پہلے اپوزیشن نے کہا تھا کہ بی جے پی آئین پر حملہ کر رہی ہے اور عوام نے انہیں جواب دیا، پھر انتخابات کے بعد نریندر مودی کو بھی آئین کو سر پر رکھنا پڑا۔آج کل مودی جی مسکراتے نہیں ہیں، اب انہوں نے بھی مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا، جب بی جے پی کے لوگ آدی باسیوں کو جنگل میں رہنے والے کہتے ہیں، تو وہ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ آپ کا طرز زندگی، تاریخ، سائنس، جس پر آپ ہزاروں سالوں سے چل رہے ہیں، وہ اسے تباہ کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔