الیکشن کمیشن سے مغربی بنگال کے انتخابی شیڈول کو ملتوی کرنے کی اپیل

   

کولکاتہ، 4 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے سینئر رہنما ادھیر رنجن چودھری نے آج الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان اس وقت تک ملتوی رکھا جائے جب تک کہ 60 لاکھ ووٹرز کی سماعت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا ہے ۔ یہ ووٹرز اس وقت انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران ”زیرِ سماعت” کے زمرے میں رکھے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے نام لکھے گئے ایک خط میں، مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر نے 28 فروری کو شائع ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کو ”زیرِ سماعت” کے زمرے میں رکھا گیا ہے ۔ ان کا موقف ہے کہ ان کیسز کو حل کیے بغیر انتخابی تاریخوں کا اعلان کرنا ریاست کے لاکھوں اہل ووٹرز کے آئینی حقوق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ ادھیر رنجن چودھری نے اپنے خط میں لکھا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے تحت 28 فروری کو شائع ہونے والی حتمی انتخابی فہرست میں تقریباً 60 لاکھ ووٹرز کو ‘زیرِ سماعت’ زمرے میں رکھا گیا ہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ ملک کی خودمختاری کے تحفظ کیلئے بنگال کے کسی بھی جائز ووٹر کو انتخابی عمل سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے ۔سابق ممبر پارلیمنٹ (بہرام پور) نے ووٹ دینے کے آئینی حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بنگال میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے جب سماعت کا عمل مکمل طور پر ختم ہو جائے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر زیرِ التوا معاملات کو حل کیے بغیر انتخابات کا اعلان کیا گیا تو بنگال کے عوام انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد سے کانگریس بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کر رہی ہے ۔ ریاستی کانگریس صدر شبھنکر سرکار نے پہلے ہی اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا تھا۔ پارٹی نے ریاست کے مختلف حصوں میں مظاہرے بھی کیے ہیں، جن میں الیکشن کمیشن سے اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ چودھری نے کہا کہ کانگریس مسلسل اس بات کو یقینی بنانے کیلئے آواز اٹھا رہی ہے کہ کسی بھی جائز ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے حذف نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں نام ایس آئی آر کے تحت جاری سماعت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور انتخابی تاریخوں کے اعلان سے پہلے عوام کو اس ابہام سے نکالنا ضروری ہے ۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ احتجاج اور نمائندگی کے باوجود تسلی بخش جواب نہ ملنے پر، اب انہوں نے براہ راست چیف الیکشن کمشنر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے ۔