کولکاتہ، 13 جنوری (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر)کے دوران ووٹرفہرستوں کے مسودے سے 54 لاکھ ناموں کو یکطرفہ طور پر حذف کیا گیا اور اس میں الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو حاصل اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔ منگل کے روز ریاستی سیکریٹریٹ ‘نبنّا’ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ حذف کیے گئے زیادہ تر نام ”حقیقی ووٹرز” کے تھے جنہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ انہیں نام حذف کیے جانے کی وجوہات سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے دہلی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ان آلات کا استعمال کیا جو بی جے پی کے تیار کردہ تھے تاکہ ایس آئی آر ڈیٹا میں نام نہاد تضادات کی نشاندہی کی جا سکے ، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نام حذف کیے گئے ۔ترنمول کانگریس کی سربراہ نے الزام لگایا، ”انہوں نے ان خواتین کے نام نکال دیے جنہوں نے شادی کے بعد اپنے نام بدلے تھے ۔ یہ خواتین ووٹ بینک کو نشانہ بنانے کی ایک دانستہ کوشش ہے کیونکہ بی جے پی سیاسی طور پر ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوگ گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہوئے اور انہیں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن کے نام نکالے گئے ہیں۔انہوں نے کہا، ”فہرست کا مسودہ پرسوں ہی جاری کیا گیا تھا۔ لوگوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ کروڑوں صفحات دیکھ کر اپنے نام تلاش کریں۔ ووٹرز کو بغیر کسی وضاحت کے غیر اخلاقی طور پر ہٹا دیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں یا خودکشی جیسے اقدامات نہ اٹھائیں، انہوں نے کہا، ”عدالت میں کیس چل رہا ہے اور ہمیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے ۔ ہم عوام کے مقصد کے لیے آواز اٹھائیں گے ۔