بنگلورو۔ 15 نومبر (یو این آئی) کرناٹک کے صحت و خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر دنیش گنڈو راؤ نے بہار اسمبلی انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کی زبردست جیت کے بعد ہفتہ کے روز الیکشن کمیشن کے رول پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کا طرفدار رہا ہے ، اس نے بی جے پی کو سرکاری پیسے سے ووٹ خریدنے کا موقع دیا، اگر بی جے پی کسی اسکیم کے تحت خواتین کو 10 ہزار، 20 ہزار یا 30 ہزار روپے دے کر انتخاب لڑتی ہے تو وہ انتخاب شفاف کیسے ہو سکتا ہے ؟ الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں کارروائی کیوں نہیں کی؟ ان کا یہ تبصرہ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سامنے آیا ہے ، جن میں این ڈی اے نے 243 میں سے 202 نشستیں حاصل کیں، جو 122 نشستوں کی اکثریت سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان میں بی جے پی نے 89 اور اس کی اتحادی جنتا دل (یونائیٹڈ) نے 85 نشستیں حاصل کیں۔ اہم حزب اختلاف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو انفرادی جماعتوں میں سب سے زیادہ ووٹ شیئر ملا، لیکن اس کے باوجود وہ صرف 25 نشستیں ہی حاصل کر سکی۔ ووٹنگ کی شرح تقریباً 67 فیصد رہی، جس میں خواتین نے 71.6 فیصد ووٹنگ کی اور جب کہ مردوں کی ووٹنگ شرح 62.8 فیصد درج کی گئی۔ یہ بہار میں پہلی مرتبہ تھا کہ خواتین نے مردوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ڈالے ۔
راؤ کی تنقید انتخابی نگرانی میں مبینہ عدم توازن اور انتخابات سے قبل فلاحی اسکیموں کے وقت سے متعلق اپوزیشن کی تشویشات کو اجاگر کرتی ہے ۔ ان کے اس بیان کے بعد مساوی مواقع کو یقینی بنانے میں الیکشن کمیشن کے کردار کی جانچ کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے ۔
