الیکشن کمیشن کا اختیارات سے تجاوز ‘ ایس آئی آر کے نام پر این آر سی

,

   

عام سرکاری ملازمین کے ذریعہ شہریت کی جانچ دستوری ڈھانچہ کو نقصان پہونچانے کی کوشش ۔ یو پی میں حراستی مراکز کی تعمیر سے شبہات

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔29۔نومبر۔الیکشن کمیشن آف انڈیا اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے ملک میں فہرست رائے دہندگان کی تنقیح اور اسے پاک بنانے کے نام پر شہریت کی جانچ کر رہا ہے!الیکشن کمیشن سے ملک بھر میں SIR کے نام پر تنقیح میں جن دستاویزات کی جانچ کی جارہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ حکومت SIR کے نام پر الیکشن کمیشن کے ذریعہ NRC کروارہی ہے اورخصوصی نظرثانی کے ذریعہ ووٹر کی شہریت کو نشانہ بنانے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں SIR کے خلاف مقدمہ میں سینیئر وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے یہ دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے ملک میں شہریت کی جانچ کر رہا ہے اور معمولی سرکاری ملازمین کے ذریعہ شہریت کی جانچ و شہری ہونے یا نہ ہونے فیصلہ کا اختیار دینے کے نتیجہ میں حالات ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن ملک میں تیسرے ایوان کے طور پر کام کر رہا ہے اور قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ ملک کے دستوری ڈھانچہ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے کیونکہ ہندستانی دستور نے پارلیمان کے دو ایوانوں کو قانون سازی کااختیار فراہم کیا لیکن الیکشن کمیشن SIR کے نام پر جو رہنما خطوط اور قوانین پر عمل کر رہا ہے وہ ناقابل فہم ہے۔ مسٹر سنگھوی کے اس استدلال اور حکومت یو پی کی جانب سے ہرضلع میں Detention Centre کی تعمیر اور قیام کی چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ الیکشن کمیشن کی اس کارروائی کے ساتھ یوگی حکومت NRC پر عمل کے ذریعہ ہندستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ ملک کی جن ریاستوں میں SIR جاری ہے ان سے موصول اطلاعات میں کہا جار ہا ہے کہ SIR میں شامل عملہ تناؤ کا شکار ہے لیکن بعض مقامات پر رائے دہندوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے تحت ان کے ناموں کو فہرست سے خارج کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مرکز نے CAA-NRC قوانے کی منظوری کے بعد CAAپر عمل کرکے پاکستان اور افغانستان کے اقلیتی طبقہ کے افراد ہندو‘ سکھ کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو ہندستانی شہریت فراہم کرنے اقدامات کرلئے ہیں اور کئی خاندانوں کو شہریت دی گئی ہے لیکن CAA کے ساتھ منظور شدہ NRC پر عمل کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے کوئی اقدامات نہیں کئے جاسکے تھے اور کہا جارہا تھا کہ مردم شماری کے دوران مرکزی حکومت سے NRC پر عمل کو یقینی بنایا جائے گا لیکن الیکشن کمیشن سے فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے نام پر مہم کے دوران جو دستاویزات طلب کرنے کے علاوہ جو شواہد مانگے جار ہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کمیشن کے ذریعہ SIR کے نام پر NRC کا عمل مکمل کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور اسی کے ذریعہ مردم شماری میں ہندرستانی شہریوں کا قومی رجسٹر تیار کرلیا جائے گا ۔ مغربی بنگال میں SIR کے خلاف ترنمول کی تحریک کے باوجود اس جدوجہد کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے اور یہ باور کروایا جارہا ہے کہ مغربی بنگال میں غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد ووٹر لسٹ میں اپنے نام درج کرواچکی ہے اسی لئے حکومت تنقیح کیلئے مہم چلا رہی ہے جبکہ اترپردیش میں یوگی حکومت نے ضلع واری اساس پر حراستی مراکز کی تعمیر کرکے اشارے دیئے ہیں کہ جن افراد کے نام SIR میں حذف ہونگے ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے گا اتر پردیش میں تیاریوں اور مغربی بنگال میں کوششوں کا جائزہ لینے پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ SIR کے ذریعہ مرکزی حکومت NRC پر عمل کے اقدامات کر رہی ہے اور یو پی حکومت نے آدھار کو شہریت ‘ پیدائش یا شناخت کے طور پر بھی قبول کرنے سے انکار کرکے ان خدشات کو مزید تقویت پہنچانے اقدامات کردیئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے آدھارکارڈ کو شہریت کیلئے تسلیم کرنے سے انکار کرکے اسے شناختی کارڈ قرار دیا ہے۔3