الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد عہدیداروں کے تبادلہ کی تیاریاں

   

انتخابی ڈیوٹی کیلئے 4 ہزار عہدیداروں کی ضرورت، تین سال سے زائد مدت والوں پر نظر
حیدرآباد۔/4 جون، ( سیاست نیوز ) الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی تیاریوں اور عہدیداروں کے تبادلوں سے متعلق رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے بعد ریاستی حکومت نے تین سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی عہدہ پر اور آبائی اضلاع میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی نشاندہی کا کام شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں انتخابی ڈیوٹی انجام دینے کیلئے تقریباً 4 ہزار عہدیداروں کی ضرورت پڑے گی جن کا انتخاب ریوینیو، بلدی نظم و نسق، پولیس اور پنچایت راج محکمہ جات سے کیا جائے گا۔ جن عہدیداروں کو انتخابی ڈیوٹی کیلئے تعینات کیا جاسکتا ہے ان کی موجودہ پوسٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے بعد چیف سکریٹری اور پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے فہرست کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔کئی اہم عہدیداروں کی تبدیلی ناگزیر دکھائی دے رہی ہے جن میں کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار بھی شامل ہیں جو اگسٹ 2019 سے اس عہدہ پر برقرار ہیں۔ لوکیش کمار کو حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے طور پر ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ بعض زونل کمشنرس اور ڈپٹی کمشنرس کی بھی تبدیلی کا امکان ہے۔ کتہ گوڑم کے کلکٹر انودیپ درشٹی جو انچارج کلکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا تبادلہ کرتے ہوئے کلکٹر حیدرآباد مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ میڑچل ملکاجگیری کے کلکٹر اموئے کمار کو حیدرآباد کی اضافی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جائے گا۔ تلنگانہ کے 595 منڈل اور 74 ریوینیو ڈیویژنس میں 500 تحصیلدار اور 50 ریوینیو ڈیویژنل آفیسرس نے ایک ہی عہدہ پر تین سال سے زائد عرصہ سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ راجندر نگر، ابراہیم پٹنم اور چیوڑلہ کے آر ڈی اوز کی عنقریب تبدیلی کا امکان ہے۔ کئی اضلاع میں کلکٹر اور ایڈیشنل کلکٹر کی بھی تبدیلی عمل میں آسکتی ہے۔ انتخابی ڈیوٹی پر اسمبلی انتخابات میں کم از کم 40 ہزار تا 50 ہزار پولیس عملے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پولیس ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کی میعاد کے مطابق فہرست تیار کی جارہی ہے۔ حکومت انتخابات کیلئے اپنی پسند کے عہدیداروں کی تعیناتی پر توجہ دے رہی ہے۔ر