اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس کی رپورٹ میں انکشاف، عوام کے خدشات سچ ثابت
حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) عام انتخابات 2019 کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کی اطلاعات کو اب توثیق کیا جانے لگا ہے اور اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس نے ایک رپورٹ میں اس بات کی توثیق کی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینو ںمیں پائے گئے ووٹوں اور کامیاب امیدواروں کی سبقت اور مستعملہ ووٹوں کی تعداد میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ملک میں 542 حلقہ جات لوک سبھا میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کے بعد جو خدشات کا اظہار کیا جانے لگا تھا ان کی اسوسیشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس کی جانب سے توثیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک بھر میں ایسی 347نشستیں ہیں جن کے مستعملہ ووٹوں اور مشین کے ووٹوں میں تفریق ریکارڈ کی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران اسوسی ایشن کی جانب سے نتائج اور مستعملہ ووٹوں اور گنتی کئے گئے ووٹوں کا باریکی سے جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے بیشتر حلقہ جات پارلیمان کے ووٹوں میں کافی فرق رہا ہے اور بعض مقامات پر کامیاب امیدواروں کی سبقت سے زائد بھی ووٹوں کی گنتی عمل میں لائی گئی ہے اور مشینوں میں یہ ووٹ پائے گئے جو کہ مستعملہ ووٹوں سے زائد ریکارڈ ہوئے ہیں۔ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس کا دعوی ہے کہ کئی مقامات اور حلقہ جات پارلیمان میں ایک لاکھ ووٹوں کا بھی فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ برس ماہ ڈسمبر کے دوران ہونے والی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بھی الکٹرانک ووٹنگ مشین اور مستعملہ ووٹوں کے فرق کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں اور اسی اخبار میں اس سلسلہ میں کئی خبریں شائع کرتے ہوئے رائے دہی اور الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں پائے جانے والے ووٹوں کے فرق کا بھی انکشاف کیا گیا تھا ۔اے ڈی آر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں صرف 195 ایسے حلقہ جات لوک سبھا پائے گئے ہیں جہاں مستعملہ ووٹوں اور الکٹرانک مشینوں میں پائے گئے ووٹوں میں کوئی فرق نہیں پایا گیا جبکہ مابقی تمام نشستوں پرہوئی رائے دہی میں یہ فرق موجود ہے۔پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے 6حلقہ لوک سبھا میں دو حلقہ جات لوک سبھا کا بھی اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ گنٹور اور وشاکھا پٹنم میں بھاری فرق پایا گیا ہے اور ان میں منجملہ 7لاکھ 39 ہزار 104 ووٹوں کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ملک کی شماہلی ہند کی ریاستوں میں بھی یہ فرق نمایاں ہے اور کئی مقامات پرکامیاب امیدوار کی سبقت سے زیادہ فرق بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ۔