متعدد سیاسی جماعتوں کے شکوک و شبہات کو نظر انداز کرنے والی بی جے پی کو احساس
حیدرآباد۔29 نومبر(سیاست نیوز) اب بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی الکٹرانک وووٹنگ مشینوں میں گڑبڑ محسوس ہونے لگی ہے۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کی متعدد شکایات پر مضحکہ خیز انداز میں گفتگو کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کی جانب سے مغربی بنگال میں تین اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں ہونے والی ناکامی کے بعد خامیاں نظر آنے لگی ہے اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ کچھ بھی ممکن ہے۔الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں موجود نقائص اور ان کے ذریعہ کسی کی بھی کامیابی اور ناکامی کو یقینی بنائے جانے کی شکایات جو اب تک غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں اب مغربی بنگال میں ہونے والے تین نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کو بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ کچھ بھی ممکن ہے۔گذشتہ عام انتخابات سے قبل ہی کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے لیکن انہیں مسترد کیا جاتا رہا لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہی یہ کہا جا رہاہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ کچھ بھی ممکن ہے۔ بنگال سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری راہول سنہا نے بنگال میں ضمنی انتخابات کے نتائج کو ہضم کرنے کے بجائے کہا ہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑکے ذریعہ ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔انہو ںنے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ کچھ بھی ممکن ہے اور بنگال میں برسراقتدار جماعت کی جانب سے اسی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔انہو ںنے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری مشنری کا بھی بیجا استعمال کرتی رہی ہے لیکن سے بڑھ کر تین نشستوں پر ترنمول کانگریس کی کامیابی الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے سبب ممکن ہوئی ہے۔مرکزی الیکشن کمیشن کو 12 سیاسی جماعتوں کی جانب سے مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات کی شکایت کی گئی تھی کہ ملک میں استعمال کی جانے والی الکٹرانک ووٹنگ مشینیں محفوظ نہیں ہیں اور ان مشینوں کا استعمال غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کا ضامن ثابت نہیں ہوسکتا اسی لئے ان سیاسی جماعتوں نے بیالٹ پیپر نظام کو واپس لانے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان سیاسی جماعتو ںکی درخواست کو مسترد کردیا اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینو ںکے ذریعہ کچھ بھی ممکن ہے۔ ملک بھر میں کئی ریاستوں میں ای وی ایم ہٹاؤ دیش بچاؤ مہم چلائی جا رہی ہے اور اس مہم کو نہ صرف غیر سرکاری تنظیموں کی تائید حاصل ہے بلکہ عوام بھی بڑی تعداد میں اس مطالبہ کی حمایت کر رہے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اب تک اس تحریک کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور اب خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔