ڈسکام نے ایک یونٹ برقی پر ایک روپیہ اضافہ کرنے تجویز تیار کی ، حکومت کو پیش کی جائے گی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے برقی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق تجویز ایک ہفتہ میں پیش کرنے کی ڈسکام کو ہدایت دی ہے ۔ کمیشن نے ڈسکام کو بتایا کہ 30 نومبر کو سال 2022-23 کی پیش کردہ رپورٹ میں برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی تجویز شامل نہ ہونے کا حوالہ دیا ہے ۔ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بتایا کہ ڈسکام کی جانب سے پیش کردہ ٹیرف تجاویز کے بعد ہی 120 دن بعد ریاست میں برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی منظوری دی جائے گی ۔ رپورٹ پیش کرنے میں جتنی تاخیر کی جائے گی قیمتوں میں اضافہ کے لیے بھی اتنی ہی تاخیر ہوگی ۔ برقی کی شرحوں میں اس مرتبہ زیادہ اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ گذشتہ 5 سال کے دوران برقی شرحوں میں کسی قسم کا اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے برقی سربراہ کرنے والی کمپنی کو کافی زیادہ نقصان ہوا ہے اور یہ نقصانات ہر سال بڑھتے جارہے ہیں ۔ اس لیے حکومت کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کم از کم یونٹ پر ایک روپیہ اضافہ کرنے کی تجویز تیار کی جارہی ہے ۔ تب ہی نقصانات پر کسی قدر قابو پانے کی توقع کی جارہی ہے ۔ یونٹ پر صرف 5 یا 10 پیسے اضافہ کرنے سے مسائل دور نہ ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایک لمبے عرصے کے بعد برقی شرحوں میں اضافہ کیا جارہا ہے تو نقصانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے معقول اضافہ کرنے پر زور دیا جارہا ہے جو معاشی بحران پیدا ہوا ہے تبھی دور ہوسکتا ہے ۔ موجودہ اور آئندہ آنے والے سال کو شمار کرنے پر 21,552 کروڑ روپئے کے نقصانات ہیں اس کے علاوہ سالانہ 6 ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات ہیں ۔ ڈسکام کی جانب سے سالانہ 4 ہزار کروڑ یونٹ برقی عوام کو سربراہ کی جاتی ہے ۔ اگر ایک یونٹ برقی پر ایک روپیہ کا اضافہ کیا جاتا ہے تو سالانہ 4 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔ آئندہ سال 2022-23 میں پھر بھی 10,928 کروڑ روپئے کا خسارہ رہے گا ۔۔ ن