الیکٹرک گاڑیوں کی خریدی پر سرکاری ملازمین کو 20 فیصد ڈسکاؤنٹ کی تجویز : پونم پربھاکر

   

آلودگی سے بچاؤ کیلئے جامع حکمت عملی، الیکٹرک گاڑیوں کی خریدی پر ٹیکس اور رجسٹریشن چارجس سے استثنیٰ، ہر رکن اسمبلی کو الیکٹرک کار خریدنے کا مشورہ
حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے تجویز پیش کی کہ آلودگی پر قابو پانے کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری ملازمین کو خریدی پر 20 فیصد رعایت فراہم کرنے کی مساعی کی جارہی ہے۔ اِس سلسلہ میں الیکٹرک گاڑیوں کو تیار کرنے والی کمپنیوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ریاست میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی پر سوال کا جواب دیتے ہوئے پونم پربھاکر نے تجویز پیش کی کہ تمام ارکان اسمبلی الیکٹرک کار خریدیں تاکہ عوام کے لئے رول ماڈل بن سکیں۔ اُنھوں نے وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا سے اپیل کی کہ وہ ارکان اسمبلی کو الیکٹرک کار خریدی کا مشورہ دیں تاکہ آلودگی پر قابو پانے کیلئے عوام کو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ ارکان اسمبلی کو کار کی خریدی کے لئے بینک سے بہ آسانی قرض حاصل ہوتا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے اسکولس، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے بسوں کی خریدی پر ٹیکس میں 25 تا 50 فیصد رعایت دینے کی ڈپٹی چیف منسٹر کو تجویز پیش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد کو نئی دہلی جیسی صورتحال سے بچانے کے لئے حکومت نے جی او 41 کے ذریعہ الیکٹرک وہیکل پالیسی تیار کی ہے۔ اِس پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی خریدی پر ٹیکس اور رجسٹریشن سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ الیکٹرک گاڑیوں میں 500 کیلو میٹر تک بیاٹری کی صلاحیت موجود ہے اور مزید صلاحیت کی بیاٹری تیار کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چارجنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ آر ٹی سی بس ڈپو، سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، ضلع کلکٹریٹس اور سیاحتی مقامات پر چارجنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ حکومت نے حال ہی میں مینوفیکچررس اور ڈیلرس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کو رجسٹریشن چارجس سے استثنیٰ کا فیصلہ کیا حالانکہ سرکاری خزانے کو 800 کروڑ کا نقصان ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ دہلی کی طرح آلودگی سے بچاؤ کے لئے حکومت الیکٹرک، سی این جی اور ایل پی جی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ حیدرآباد میں ڈیزل کی جگہ سی این جی اور الیکٹرک آٹو کی اجازت دی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت مزید 2000 الیکٹرک بسوں کا اضافہ ہوگا۔ ورنگل کے لئے 100 اور نظام آباد کے لئے 50 الیکٹرک بسوں کی منظوری دی گئی ہے۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ گاڑیوں کے لئے اسکراپ پالیسی تیار کی گئی جس کے تحت 15 سال کے بعد گاڑیوں کو سڑک پر لانے کی اجازت نہیں رہے گی۔ آر ٹی سی میں ڈسمبر 2025ء تک 875 الیکٹرک بسیں چلائی جارہی ہیں۔ ضمنی سوالات کے جواب میں پونم پربھاکر نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو رجسٹریشن چارجس اور ٹیکس میں صد فیصد رعایت دی گئی ہے۔ جی او آر ٹی 18 کے تحت وزیراعظم ای ڈرائیو اسکیم سے استفادہ کرکے 2800 الیکٹرک بسوں کی خریدی کا فیصلہ کیا گیا ۔ 2030ء تک الیکٹرک بسوں کی تعداد 35 فیصد ہوجائیگی جبکہ 2035ء تک 80 فیصد بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کیا جائے گا۔1