حیدرآباد 2 جون ( پی ٹی آئی ) ان اندیشوں کا اظہار کرتے ہوئے کہ الیکٹریسٹی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے ریاستی پاور کمپنیوں کے مینجمنٹ پر راست اثرات مرتب ہونگے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ اس نئے بل سے دستبرداری اختیار کرلی جائے ۔ چندر شیکھر راو نے اس سلسلہ میں ایک مکتوب وزیر اعظم نریندر مودی کو روانہ کیا اور مرکز کی جانب سے رائے طلب کئے جانے پر اپنی رائے سے واقف بھی کروایا ۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں یہ بات بتائی گئی ۔ مکتوب میں کے سی آر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کا یہ خیال ہے کہ مجوزہ ترامیم مناسب نہیں ہیں اور اس سے ریاستوں میں برقی شعبہ کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ ان حالات میں ریاستی حکومت کا یہ احساس ہے کہ مرکزی وزارت برقی کو ان ترمیم سے عوامی مفاد میں دستبرداری اختیار کرلینے کی خواہش کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس
بل کے نتیجہ میں ریاستی حکومتوں کے کچھ کام کاج متاثر ہونگے اور کچھ اختیارات بھی کم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ترامیم سے ریاستی حکومتوں کو ریاستی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے تقرر کا اختیار نہیں رہ جائیگا ۔ اس سے دستور میں گنجائش کے مطابق وفاقی پالیسی کی مخالفت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر کوئی بھی قابل تجدید توانائی پالیسی تیار کی جاتی ہے تو اس میں ریاستی حکومتوں کی منظوری حاصل کی جانی چاہئے صرف مشاوت کافی نہیںہے ۔مرکز کو اس سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے۔