الیکٹریسٹی ریگولیٹری بورڈ برقی چارجس میں اضافہ کی تجویز کو مسترد کردیں

   

کے ٹی آر کے قیادت میں بی آر ایس قائدین کی نمائندگی ، عوام پر 18,500 کروڑ کا مالی بوجھ عائد ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر سابق وزیر برقی جگدیش ریڈی بی آر ایس کے ایک وفد کے ساتھ الیکٹریسٹی ریگولیٹری بورڈ سے ملاقات کرتے ہوئے برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی تجویز کو مسترد کردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تحریری یادداشت پیش کی ۔ بعد ازاں کے ٹی آر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مختلف ناموں اور بہانوں کے ذریعہ عوام پر 18,500 کروڑ روپئے کا برقی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ غریب اور متوسط طبقہ پر اتنا بھاری مالی بوجھ عائد کرنا ظلم و زیادتی ہوگی ۔ ابھی تک حکومت کے غلط فیصلوں سے زرعی شعبہ اور صنعتی شعبہ بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔ حکومت کے تازہ تجویز سے غریب اور متوسط طبقہ مزید پریشان ہوجائے گا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گھریلو برقی صارفین فکسڈ چارجس کے نام برقی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مخالفت کرتی ہے ۔ صنعتی شعبہ کے تمام زمروں کو یکساں شرح طئے کرنے کی سازش تیار کی جارہی ہے ۔ ’ٹرواف چارجس ‘ کے نام پر عوام سے زیادہ برقی بلز وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت ان تجاویز سے عوام پر برقی بلز کا اضافی بوجھ عائد ہوجائے گا ۔ ماضی میں بی آر ایس حکومت نے کئی مسائل و مشکلات کے باوجود برقی بلز میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی عوام پر کسی قسم کا مالی بوجھ عائد کیا ۔ جھوٹے وعدوں بالخصوص مفت برقی کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی اقتدار حاصل کرتے ہی اپنے وعدے کو فراموش کرچکی ہے ۔ کئی ایسے لاکھوں خاندان ہیں جنہیں 200 یونٹ تک مفت برقی حاصل نہیں ہورہی ہے بلکہ روزانہ بغیر اطلاع دئیے گھنٹوں برقی کٹوتی کی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے حکومت سے برقی چارجس میں اضافہ کرنے کی تجویز سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کامطالبہ کیا ۔۔ 2