ابوظبی : متحدہ عرب امارات کے صدر اور سوڈانی فوج کے سربراہ نے سوڈان میں خانہ جنگی روکنے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سے قبل ایتھوپیا نے ثالثی کی پیش کش کی تھی، تاکہ سوڈان میں 15 ماہ سے جاری خانہ جنگی کو روکا جا سکے۔ سوڈان کے فوجی سربراہ اور امارات کے صدر کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ ہوا ہے۔ سوڈانی فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ امارات کی حکومت سوڈان کی پیرا ملٹری فورسز کو فوج کے خلاف لڑنے کے لیے مدد دے رہی ہے۔ سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) اورسوڈانی فوج کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے۔ اماراتی میڈیا کے مطابق شیخ محمد بن زاید النہیان نے سوڈان میں جاری لڑائی کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ حل اور ان کے لیے اقدامات پر بات کی۔ اس دوران سوڈانی فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے مطالبہ کیاکہ وہ آر ایس ایف کی سرپرستی اور مدد بند کریں۔ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں شیخ محمد بن زاید النہیان اور جنرل عبدالفتاح البرہان نے ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کی ثالثی کی تجویز پر بھی بات چیت کی۔
