امارات سے وطن واپسی پر جرمانے معاف کرنے کا اعلان

,

   

دبئی ۔10 جون (سیاست ڈاٹ کام ) متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ امارات میں آمد اور قیام کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بیرونی افراد کے جرمانے امارات سے واپسی کی صورت میں معاف ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق امارات میں شہریت کے وفاقی ادارے کے ماتحت تارکین وطن کے امور کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سعید راکان الراشدی نے کہا ہے کہ اقامہ اور آمد کے قانون کی خلاف ورزیاں کرنے والے تارکین وطن کے جرمانے صرف اس صورت میں معاف ہوں گے جب وہ امارات کو خیر باد کہہ رہے ہوں۔امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے ایسے تمام غیرملکیوں کو جن پر اقامہ اور آمد کے قانون کی خلاف ورزیوں کے جرمانے ہیں ان سے معافی کا فرمان جاری کیا ہے۔الراشدی نے آن لائن پریس کانفرنس میں کہا کہ صدارتی فرمان کے ذریعے ایسے تمام تارکین وطن کے جملہ جرمانے ختم کردیے جائیں گے جنہوں نے اقامہ اور آمد کے قانون کی خلاف ورزی یکم مارچ سے قبل کی ہوگی۔ یہ سہولت تمام زمروں والے تارکین وطن کو دی جائے گی۔ اس سہولت کے تحت آمد اور قیام کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تمام تارکین وطن ریاستی ایرپورٹ کے ذریعے سفرکرسکتے ہیں۔ انہیں سفر سے 6 گھنٹے قبل ایرپورٹ پہنچنا ہوگا۔ سفر کرتے وقت ان سے کوئی جرمانہ نہیں لیاجائے گا۔الراشدی نے کہا کہ ابوظہبی، شارجہ اورراس الخیمہ کو سفر سے چھ گھنٹے پہلے ایرپورٹ پہنچنا ہوگا جبکہ دبئی ایرپورٹ سے سفر کرنے والوںکو 48 گھنٹے قبل ایرپورٹ آنا ہوگا۔تارکین وطن کو ایرپورٹ پہنچ کر سیکیورٹی مراکز سے سفر کی کارروائی کروانا ہوگا۔ 6 گھنٹے یا 48گھنٹے کی پابندی سے 15 برس سے کم عمر بچوں اور معذوروں کو استثنی حاصل ہوگا۔اس سوال پرکہ کورونا کی وبا کے باعث پروازوں پر پابندی کی وجہ سے سفر نہ کرسکنے والے تارکین وطن صدارتی فرمان کی سہولت سے کس طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟ الراشدی نے جواب دیا کہ اس قسم کے تارکین وطن پہلے واپسی کی کارروائی مکمل کروائیں اس کے بعد مخصوص پروازوں سے سفر کے لیے اپنے سفارتخانوں سے رابطہ کریں۔ صدارتی فرمان سے استفادے کی واحد شرط یہ ہے کہ تارک وطن امارات کو خیر باد کہہ دے تاہم اگر اقامہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والا نقل کفالہ کرانا یا اپنے قیام کو قانون کے دائرے میں لانا چاہتاہو تو اسے ایسی صورت میں اقامہ قانون کی خلاف ورزی پر مقررہ جرمانے ادا کرنا ہوں گے۔