دبئی ،26 جنوری (ایجنسیز) خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، ہندی فلموں کے لیے ایک بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن کر ابھراہے ، تاہم جغرافیائی و سیاسی وجوہات کے باعث متعدد ہندی فلموں کو یو اے ای میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی، جس سے فلمی تقسیم کاروں اور پروڈیوسرزکو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فلمی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری ہندی فلموں کے لیے مضبوط ناظرین فراہم کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق کئی بڑی بالی ووڈ فلموں کی بیرونِ ملک کمائی کا 25 سے 40 فیصد حصہ خلیجی مارکیٹ سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم بعض فلمیں حساس مذہبی، سیاسی اور جیوپولیٹیکل موضوعات کے باعث پابندی یا کٹوتیوں کی زد میں آئیں۔ پٹھان (2023)، ریز (2022)، او ایم جی 2 (2023) کو بالغ مواد کے باعث، دی کشمیر فائلز (2022) کو متنازعہ بیانیے، جبکہ بنگلہ دیش 1971 (2015) کو اسٹیریوٹائپنگ کی بنیاد پر یو اے ای میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی۔ اسی طرح حالیہ ریلیز فلم بارڈر 2 کے بارے میں بھی متنازعہ نظریات کے سبب تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، بعض فلموں نے خلیجی ممالک میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ شاہ رخ خان کی فلم جوان (2023) نے بیرونِ ملک آمدنی کا 29 فیصد، اینیمل (2023) اور پٹھان (2023) نے فی کس 16 فیصد، جبکہ سیارا (2025) نے 33 فیصد اور چھاوا (2025) نے 16 فیصد بیرونِ ملک سے حاصل کیا، جس میں خلیجی مارکیٹ کا نمایاں کردار رہا۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یو اے ای جیسے بڑے بین الاقوامی بازار میں ریلیز نہ ملنے سے فلم کی مجموعی عالمی کمائی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ایک سینئر پروڈیوسر کے مطابق، فلم سازوں کو اب اسکرپٹ کے مرحلے ہی پر بین الاقوامی حساسیت اور سنسر ضوابط کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فلم ساز عالمی ناظرین کی حساسیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مواد تیارکریں تو خلیجی ممالک میں ہندی فلموں کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں یو اے ای ایک بڑی مگر چیلنجنگ مارکیٹ بنا ہوا ہے۔