امارات میں تارکین وطن میں کرپٹو کے استعمال کا رجحان

   

دبئی : محمد بلال کو دبئی کی شدید گرمی میں منی ٹرانسفر آفس کے باہر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا تاکہ وہ پاکستان میں اپنی بیوی اور والدین کو ہر ماہ 7 ڈالر فی ٹرانسفر کے حساب سے ایک ہزار ڈالر گھر بھیج سکے۔اس کے بعد اس نے ایک ایسی ایپ پر سوئچ کیا ہے جس کی مدد سے وہ بغیر کسی ٹرانسفر فیس کے فوری طور پر رقم بھیج سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد میں شامل ہو کر اس نے کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین سروسز کو تیز اور سستے طریقے سے ترسیلات زر بھیجنے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 27 سالہ کسٹمر سروس ایجنٹ بلال نے کہا اب مجھے قطاروں میں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی رہائش گاہ پر رہ کر اپنے موبائل فون سے رقم بھیجتا ہوں اور وہ سیکنڈوں میں ٹرانسفر ہوجاتی ہے۔