وزیر داخلہ محمود علی کی ہدایت، اقلیتی کمیشن نے ضلع ایس پی سے رپورٹ طلب کی
حیدرآباد ۔30۔مارچ (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے نارائن پیٹ میں نماز جمعہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے امام اور موذن سمیت مصلیوں کو مار پیٹ کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کو تحقیقات کرتے ہوئے ضروری کارروائی کی ہدایت دی۔ نارائن پیٹ میں پولیس کارروائی کے خلاف عوام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پولیس نے غیر ضروری اوور ایکشن کرتے ہوئے امام اور موذن کو بھی بری طرح نشانہ بنایا۔ حالانکہ مسجد میں مصلیوں کی تعداد 5 سے زیادہ نہیں تھی۔ پولیس نے ایک مقامی صحافی کی غلط اطلاع کی بنیاد پر یہ کارروائی کی تھی۔ پولیس مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر داخلہ محمود علی نے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کیا اور مساجد میں ہجوم کو روکنے کیلئے طاقت کے استعمال کے بجائے شعور بیداری کی ہدایت دی ۔ تفصیلات جاننے کے بعد وزیر داخلہ کی ہدایت پر ان کے فرزند کے ٹی وی چیانل سے مذکورہ رپورٹر کو فوری اثر کے ساتھ برطرف کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک دن قبل مذکورہ رپورٹر نے مسجد کا قفل توڑ کر ٹائلٹ کا استعمال کیا تھا۔ مختلف مسلم تنظیموں اور مقامی افراد نے اس واقعہ کے سلسلہ میں وزیر دا خلہ سے نمائندگی کی تھی۔ محمود علی نے کہا کہ امام اور موذن کے علاوہ مصلیوں پر زیادتی کرنے والے پولیس عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ علماء اور مفتیان کرام کے فیصلہ کے مطابق مسلمانوں کو مساجد میں ہجوم سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسی دوران صدرنشین اقلیتی کمیشن محمد قمرالدین نے نارائن پیٹ واقعہ کے سلسلہ میں از خود کارروائی کرتے ہوئے ضلع ایس پی سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے سلسلہ میں کمیشن سے شکایت کی جاسکتی ہے۔ قمرالدین نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ عوام کو لاک ڈاؤن کی پابندی کرتے ہوئے سماج کو وائرس سے بچانے میں اہم رول ادا کرنا چاہئے ۔
