امانت دار اللہ کا محبوب بندہ ، راز کو پوشیدہ رکھنا امانتداری

   

خواتین کو امانت دار بننے کی تلقین ، مفتیہ رضوانہ زرین کا اجتماع سے خطاب

حیدرآباد ۔ /14 جولائی (راست) امانت و دیانت داری کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ۔ امانت امن سے بنا ہے اور کوئی شخص اپنا حق چھوڑکر امن میں نہیں رہ سکتا اس لئے کسی چیز کو امن دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت احسن فعل ہے ۔ امانت دار اللہ کا محبوب ترین بندہ ہے کسی کا راز تمہیں معلوم ہے تو اس راز کو پوشیدہ رکھنا امانتداری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آج جامعۃ المؤمنات مغلپورہ میں منعقدہ خواتین کے اجتماع سے مفتیہ رضوانہ زرین پرنسپل جامعۃ المؤمنات نے کیا ۔ اجتماع کا آغاز قاریہ شفاء ناز کی قرأت اور قاریہ صباء قادری کی نعت شریف سے ہوا ۔ سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مفتیہ رضوانہ زرین نے کہا کہ امانت کی ضد خیانت ہے ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ دنیا میں امانت اور سچائی بہت کم ہے ۔ اس کے برعکس جھوٹ اور خیانت بہت زیادہ ہے اس لئے ایمان دار بن جاؤ تاکہ جھوٹ سے بچ جاؤ ، حضور ﷺ نے فرمایا جس میں امانت نہیں اس کا ایمان نہیں اور جس کا عہد مضبوط نہیں اس کا دین نہیں ہے ۔ محترمہ نے خواتین پر زور دیا کہ فرائض و واجبات ، اعمال صالحات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دخول جنت اور رضاء خداوندی چاہتے ہیں تو امانت دار بننے کی کوشش ضرور کرتے رہیں ۔ مفتیہ غوثیہ شاہد نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو مسلمان صبح کے وقت کسی دوسرے مسلمان کی عیادت کرتا ہے ۔ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعاء کرتے ہیں ۔ عالمہ شمع کوثر نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ غم کا اظہار آنکھ سے آنسوؤں نکالنے کے ذریعہ سے ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس کی رحمت کا حصہ ہے اگر وہ ہاتھ یا زبان کے ذریعہ سے ہو تو وہ شیطان کی جانب سے ہے جو نوحہ کرنا حرام ہے ۔ قاریہ عرشیہ بیگم نے کہا کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ جھوٹ چہرہ کو سیاہ کردیتا ہے ۔ قاریہ عظمیٰ بیگم نے کہا کہ عورتوں کو چاہئیے کہ وہ پردہ کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں ۔ عورتوں کو چاہئیے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور غیر محرم کے سامنے بے پردہ نہ نکلیں اس سے فتنہ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اس کے علاوہ حافظہ فریعہ نورین ، حافظہ رمصیاء افشین ، قادریہ انجم بیگم ، قاریہ راحلہ فردوس ، قاریہ ثمرین بیگم وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔ دعاء و سلام پر اجتماع اختتام کو پہنچا ۔