امبوجا سمنٹ فیاکٹری کیلئے رائے عامہ پروگرام افراتفری کا شکار

   

رامنا پیٹ میں عوامی تنظیموں کے ساتھ بی آر ایس کا احتجاجی مظاہرہ ، کئی سابقہ ارکان اسمبلی محروس ، حالات قابو میں

نلگنڈ ہ۔23 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عوام نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ امبوجا سمنٹ انڈسٹری کو رامنا پیٹ میں قائم نہیں کیا جانا چاہئے۔ نکریکل حلقہ کے رامناپیٹ میں سمنٹ فیکٹری کے قیام کے لیے آج رائے عامہ پروگرام کا انعقادعمل میں لایاگیا۔ کانفرنس کے قریب لوگوں نے نعرے لگائے کہ امبوجا سمنٹ واپس جاؤ اور ریفرنڈم کانفرنس کو روک دیا۔ لوگوں کے نعروں سے رامنا پیٹ میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ یادادری بھونگیر اور نلگنڈہ ضلع کی پولیس جو پہلے سے ہی پہنچ چکی تھی لوگوں کو قابو کرنے کی کوشش کی ۔رامنا پیٹ میں پولیس کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی واضح رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے رامنا پیٹ میں امبوجا سمنٹ انڈسٹری کے قیام کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ کئی عوامی تنظیموں نے اور کئی سابق ایم ایل ایز نے بھی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس تناظر میں حکام اور صنعتکار نے عوام کی شرکت اوررائے عامہ کا ایک سروے کیا ہے۔ تاہم یادادری بھو نگیر اور نلگنڈہ اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔صدر بی آر ایس و سابق رکن رویندر کمار سابقہ رکن اسمبلی بھوپال ریڈی کو پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ رائے عامہ میں نہیں جا سکے ۔ سابق ایم ایل اے کو پولیس کی حراست میں لے لیا گیا ۔ریفرنڈم کانفرنس کے لیے روانہ ہونے والے سابق ایم ایل اے چیرمرتی لنگیا کو پولیس نے راستے میں ہی گرفتار کرلیا۔ سابق وزیر و رکن اسمبلی سوریا پیٹ جی۔جگدیش ریڈی نے امبوجا سمنٹ فیکٹری ریفرنڈم میں جانے والے سابق ارکان اسمبلیوں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔عوام کمیونٹی لیڈروں، عوامی نمائندوں، پارٹی لیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اورگھر پر نظر بند کیا جارہا ہے پھر کس کی رائے لی جائیگی۔ امبوجا انتظامیہ کا خیال ہے کہ چھتیس گڑہ اورورنگل قومی سڑک اور ریلوے لائن کی موجودگی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی وجہ رمناپیٹ کو ترجیح دیاگیاہے۔ سابقہ بی آر ایس حکومت نے یہاں سرکاری زمین کو صنعتی پارک کے لیے مختص کیا تھا جبکہ مرکزی حکومت نے ڈرائی پورٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امبوجا گروپ اسی جگہ پر تقریباً 63 ایکڑ پر 6.0 ملین میٹرک ٹن کی صلاحیت کے ساتھ سمنٹ فیکٹری لگانے کے لیے منصوبہ تیارکیا ہے۔ اس کے لئے ا مبوجا گروپس کے ذریعہ اسکل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے لیے اڈانی نے 100 کروڑ کا عطیہ دیا، ضلع کے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی رکن اسمبلی ویمولا ویرشم پر تنقید کر رہے ہیں۔ سابقہ ارکان اسمبلی اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رامنا پیٹ منڈل میں نئی سمنٹ فیاکٹری آنے سے جو پہلے ہی کیچڑ کی آلودگی کی وجہ سے کئی مسائل کا شکار علاقہ ہے ضلع کی تصویر سے رامنا پیٹ کا نام بھی غائب ہو جائے گا۔ جسکی وجہ عوام اور قائدین کو رائے شْماری میں شرکت سے روکا جا رہا ہے کیا عوامی حکومت میں عوام پر جبر کیا جاسکتاہے ۔رائے عامہ اکٹھا کرنا اور عوامی نظم و نسق کے ذریعہ کیاجا سکتا ہے۔