آزادی کے بعد ملک تقسیم ہوا اور مسلمانوں نے پاکستان لے کر ایک مسلم ملک بنالیا لیکن ہندوستان ہندو راشٹر نہیں بنا
پناجی ( گوا ) ۔ 4 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) گوا کے ڈپٹی چیف منسٹر منوہرا جگاؤنکر نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی دستور کے معمار بابا صاحب امبیڈکر نے بھی ’’دلستان‘‘ کی تشکیل دینے کا ارادہ کرلیا تھا جہاں وہ دلتوں کے لئے ایک علحدہ ملک کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے تھے لیکن ہندوستانی عوام نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا ہونے نہیں دیا ۔ گوا اسمبلی میں پیر کے روز اپنے خطاب کے دوران اجگاؤنکر نے یہ بات اُس وقت کہی جب اُنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کو ملک میں شہریت (ترمیمی) قانون ( سی اے اے ) لانے پر مبارکباد کی تحریک پیش کی ۔ ایوان کو خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنا ملک ( پاکستان ) لیکر چلے گئے اور پاکستان ایک مسلم ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا لیکن ہندوستان ہندو ملک نہیں بنا۔ کچھ لوگ ہندو ملک کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوؤں میں سارے فرقہ یعنی عیسائی ، ہندو ، مسلم اور دلت شامل ہیں، تاہم دلتوں کے لئے بابا صاحب امبیڈکر نے کہا تھا کہ دلتوں کیلئے ’’دلستان‘‘ کا قیام عمل میں لانا چاہئے لیکن اس کے باوجود آج بھی ہم متحد ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے منوہر ا جگاؤنکر کا تعلق پرنیم حلقۂ اسمبلی سے ہے جو درج فہرست ذات کے امیدوار کیلئے محفوظ ہے ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ جب 1947 ء میں ملک کو آزادی حاصل ہوئی تو اُس وقت بابا صاحب امبیڈکر نے دستور کو تشکیل دیا جس میں ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی اور دلتوں کو یکساں حقوق دیئے ۔ اگر یہ ملک عظیم ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں سب نے اپنا اپنا کردار نبھایا ہے ۔ یاد رہے کہ گوا کی ریاستی اسمبلی نے پیر کے روز ایک مبارکبادی تحریک کو منظور کیا جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کو سی اے اے متعارف کرنے پر مبارکباد پیش کی گئی جس کے تحت پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ظلم و ستم کا شکار غیرمسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔ نائب وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں سی اے اے صرف شہریت دینے والا قانون ہے کسی کی شہریت چھینی نہیں جائے گی لہذا ملک کی تمام اقلیتوں کو اس سے خوفزدہ ہونا نہیں چاہئے۔ یہ کوئی حق تلفی والا قانون نہیں ہے ۔ ہم اگر وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو مبارکباد دینے کی تحریک منظور کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے خلاف یا کسی کی تائید کررہے ہیں بلکہ ہمارا موقف بالکل غیرجانبدار ہے ۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ مستحق لوگوں کو ظلم و ستم سے نجات مل جائے اور وہ ہندوستان آکر پرسکون زندگی گذاریں۔ آج ضرورت آپسی بھائی چارے کی ہے اور اُسے قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ملک میں سی اے اے سے متعلق پائی جانے والی عوامی بے چینی سے متعلق اُنھوں نے لب کشائی نہیں کی۔ آئین کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے بارے میں مسٹر اجگاؤنکر نے جو کچھ کہا ہے اُس پر دیگر سیاستدانوں کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
