نئی دہلی۔ جے ای ای مین امتحان میں پیپر لیک ہونے کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کانگریس نے اسے ملک کے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کا نام دیا اور کہا کہ یہ ایک بڑا گھپلہ ہے اور پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیٹی بنا کر انکوائری کرائی جائے ۔ کانگریس ترجمان گورو بالو، الکا لامبا اور پارٹی کے طلبہ ونگ این ایس یو آئی کے صدر نیرج کندن نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ہر مسابقتی امتحان کو گھوٹالوں کا گڑھ بنا دیا ہے اور جے ای ای مین کی طرح بڑے امتحانات میں لاکھوں روپے دے کر پیپر لیک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب ہر بڑے امتحان کے پرچے لیک ہو رہے ہیں اور پیپر لاکھوں روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی بیچتے جاؤ پیپر والی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بڑے امتحانات کی ذمہ داری اس حکومت میں 2017 میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو دی تھی لیکن یہ ایجنسی ناقابل اعتماد بن کر منظر عام پر آئی ہے ۔ ہر سال اس کے امتحانات میں پیپر لیک ہوتا ہے اور ایجنسی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی عام بات نہیں ہے کہ ملک کے سب سے معتبر داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہو رہے ہیں۔ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور وزیراعظم کو باہر آکر نوجوانوں کو اعتماد میں لینا چاہیے کہ وہ اس کے ذمہ دار ہیں اور آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔