راجیہ سبھا میں آج پیشکشی، کانگریس کی تائید، وائی ایس آر کانگریس ارکان نے واک آؤٹ کیا
حیدرآباد ۔یکم اپریل (سیاست نیوز) لوک سبھا میں آج آندھراپردیش تنظیم جدید ترمیمی قانون 2026 کو منظوری دے دی گئی جس کے تحت امراوتی کو آندھراپردیش کے مستقل دارالحکومت کا درجہ دیا گیا ہے ۔ ترمیمی بل کی منظوری سے آندھراپردیش کا حیدرآباد سے تعلق ختم ہوچکا ہے جو 10 برسوں تک دونوں ریاستوں کے مشترکہ دارالحکومت کے طور پر رہا۔ کانگریس اور بی جے پی نے بل کی تائید کی اور یہ بل راجیہ سبھا میں منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔ تلگو دیشم ارکان نے بل کی تائید کی جبکہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مخالفت کی۔ ترمیمی بل پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس رکن مانکیم ٹیگور نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کی تائید کرتی ہے تاہم آندھراپردیش کو خصوصی موقف کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراوتی کو بنگلور ، چینائی اور حیدرآباد کے طرز پر ترقی دی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ وشاکھاپٹنم ، تروپتی اور کرنول کی ترقی کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ تلگو دیشم رکن اور مرکزی وزیر دیہی ترقی پی چندر شیکھر نے ایوان سے اپیل کی کہ متفقہ طور پر بل کو منظوری دیں۔ بی جے پی رکن سی ایم رمیش نے بل کی تائید کی اور کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی ریاست کے مستقل دارالحکومت کے حق میں قانونی ترمیم کی گئی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی ارکان نے بل کی مخالفت کی۔ پارٹی رکن پی وی متھن ریڈی نے کہا کہ امراوتی کی ترقی کیلئے 34,000 ایکر اراضی حاصل کی گئی لیکن متاثرین کی بازآبادکاری نہیں ہوئی ہے۔ اراضی حوالے کرنے والے کسانوں کی بھلائی پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگو دیشم حکومت سیاسی اغراض کے تحت امراوتی کو مستقل دارالحکومت بنانا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش اسمبلی نے 28 مارچ کو قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے درخواست کی تھی کہ تنظیم جدید قانون میں ترمیم کرتے ہوئے امراوتی کو مستقل دارالحکومت کا درجہ دیا جائے۔ وائی ایس آر کانگریس کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ تلگو دیشم ، بی جے پی ، جنا سینا ، کانگریس ، سماج وادی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کے ارکان نے مباحث میں حصہ لیا۔ پیانل اسپیکر کرشنا پرساد نے بل کی منظوری کا اعلان کیا۔ یہ بل جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔1