امراوتی کی ایم پی نونیت رانا کا فون ٹیاپنگ کا الزام

   

کشیدگی کا ماحول ،پولیس اسٹیشن میں ہنگامہ

ممبئی:امراوتی شہر میں ایک اور بین مذاہب شادی کے معاملہ کے بعد ہندو تنظیمیں اشتعال میں آگئیں۔بین المذاہب شادی میں مبینہ طور پر لڑکی کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے امراوتی کی رکن پارلیمنٹ نونیت رانا ہندو تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ سیدھے راجا پیٹھ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئیں ہنگامہ اور بدتمیزی کرتے ہوئے نظر آئیں۔اس وقت اس جگہ پر کشیدگی کا ماحول ہے اور پولیس اسٹیشن پر بڑی بھیڑ جمع ہوگئی ہے۔امراوتی کے ایم پی نونیت رانا اور پولیس حکام کے درمیان چہارشنبہ کے روز اس کی فون کال ریکارڈ کرنے کے معاملے پر گرما گرم بحث و تکرار ہوئی۔ یہ واقعہ دوپہر 12 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب رانا نے ایک ہندو تنظیم کے ارکان کے ساتھ ایک ہندو لڑکی کے اغوا اور ایک مسلم لڑکے سے زبردستی شادی کی شکایت لے کر راجاپٹھ پولیس سے رجوع کیامہاراشٹر کے امراوتی میں ایک ہندو لڑکی کو ایک مسلمان لڑکے کی طرف سے بھگا کر شادی کی کوشش کرنے کے معاملے میں تھانے میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ امراوتی کے ایم پی نونیت رانا نے پولیس اسٹیشن میں متاثرہ کے اہل خانہ کے ساتھ ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جب نونیت رانا راجاپٹھ تھانے پہنچے تو وہاں موجود پولیس انسپکٹر منیش ٹھاکرے اور ڈی سی پی کے ساتھ ان کی بحث و تکرار بھی کی۔ اور لڑکی کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔اس دوران رانا نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ان کی کال ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ جب میں نے پولیس کو یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ تفتیش کہاں تک پہنچی ہے تو میری کال ریکارڈ کر لی گئی۔ نونیت کا الزام ہے کہ لوجہاد کیس کی شکایت کے دوران اس نے پولیس والے کو فون کیا تھا اور اس نے اس کا فون ریکارڈ کر لیا تھا۔ انہوں نے غصہ میں افسر سے پوچھاکہ ریکارڈنگ کا حق کس نے دیا؟رانا کا کہنا ہے کہ یہ لو جہاد کا معاملہ ہے۔ اس میں ایک مخصوص مذہب کے لڑکے نے لڑکی کو بھگا کر لے گیاہے۔ اگر لڑکی کو بحفاظت واپس نہ لایا گیا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔۔انہوں نے لڑکے پر الزام لگایا کہ وہ لڑکی کو بھگاکر شادی کی اور اپنے پاس رکھا۔ اس معاملہ میں پیاز اور آلو بیچنے والے ایک نوجوان کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔