امراوتی کے کسانوں کا احتجاج آٹھویں دن بھی جاری

   

حیدرآباد 25دسمبر(یواین آئی) ریاست کے تین دارالحکومتوں کی تجویز کے خلاف آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی کے کسانوں کا احتجاج آٹھویں دن بھی جاری ہے ۔دارالحکومت کے علاقہ تُلورو میں کسانوں نے مظاہرہ کیا۔نوجوانوں نے سڑکوں پر کرکٹ،والی بال اور دیگر کھیل کھیلتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا۔مظاہرین نے اپنے چہروں پر مودی اور امیت شاہ کے ماسک لگائے ۔دارالحکومت کے علاقہ مندادم میں کسانوں نے سڑکوں پر خیمے لگائے اور مہا دھرنا دیا۔ویلگاپوڑی میں کسانوں،خواتین اور چھوٹے بچوں نے زنجیری بھوک ہڑتال شروع کردی۔شہری ترقی کے محکمہ کے پرنسپال سکریٹری و کیپٹل ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذمہ داروں کو کسانوں نے مکتوب روانہ کیا۔ ان کسانوں نے تین دارالحکومتوں کی وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی تجویز کے خلاف نعرے بازی کی اورمطالبہ کیا کہ تین دارالحکومتوں کی تجاویز سے فوری دستبرداری اختیار کی جائے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ امراوتی میں انفراسٹرکچر تیار ہے اور تین دارالحکومتوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ کسانوں نے واضح کیا کہ ان کو ایک ہی دارالحکومت چاہئے جس کا وعدہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے ان کی اراضیات نئے دارالحکومت کی تعمیر کے لئے لیتے وقت کیا تھا۔ کسانوں نے الزام لگایا کہ تین دارالحکومتوں کے اعلان کے ذریعہ وزیراعلی ریاست کو تقسیم کررہے ہیں۔ کسانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اس اعلان کو فوری طورپر واپس لے ۔ اس احتجاج کے موقع پر مختلف مقامات پر پولیس کا بھاری بندوبست دیکھا گیا۔