واشنگٹن: امریکہ نے پیر کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی اسرائیل کے خلاف تحقیقات کی مخالفت کر دی ہے۔ یہ تحقیقات غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے حوالے سے جاری ہیں جن میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور بعض دیگر اہم حکومتی عہدیدار تحقیقات کی زد میں ہیں۔ تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جا رہا کہ انہوں نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔پچھلے کئی دنوں سے اسرائیلی حکام کے اس سلسلے میں گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے امکانات سے متعلق خبریں اسرائیلی میڈیا میں آرہی ہیں اور میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہیکہ اسرائیلی حکام پریشانی کا شکار ہیں۔وزیراعظم نتن یاہو نے اگرچہ اس بارے میں بہت سخت بیانات دیے ہیں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا کوئی اقدام اسرائیل کی غزہ جنگ اور دیگر جنگی اقدامات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا۔ تاہم نتن یاہو نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر پچھلے ہفتے کو امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ اس سلسلے میں تفصیلی ٹیلیفونک بات چیت کی تھی۔ تاکہ امریکی صدر سے ممکنہ صورتحال سے پہلے مدد طلب کر سکیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرین جی پیئر نے رپورٹرز سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہیکہ ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کے بارے میں یہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ اسرائیلی حکام کے خلاف ان تحقیقات کی حمایت نہیں کرسکتے۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا یہ دائرہ کار ہی نہیں بنتا۔’نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ ہیگ میں قائم فوجداری عدالت کی کارروائی کی زد میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو دیگر کئی رہنماؤں سمیت آسکتے ہیں۔ تاہم ترجمان وائٹ ہاؤس کیرین جی پیئر نے اس بارے میں تصدیق نہیں کی ہے کہ نتن یاہو کی جوبائیڈن سے بات ہوئی تھی۔
رپورٹ کے بعد پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ترک ویب سائٹس کے مطابق پولیس نے ہوٹل کے باہر لگے کیمروں کی ریکارڈنگ قبضے میں لے کر ان کی چھان بین شروع کی ہے۔ ریکارڈنگ میں دونوں حملہ آوروں کو ہیلمٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شیف نصرت کو اس حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ اس سے قبل ان کے ریسٹورنٹ پر جو اسٹیکس پیش کرتا ہے پر رواں سال 21 مارچ کو بھی اسی طرح حملہ کیا گیا تھا، جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے اس پر فائرنگ کی تھی۔