ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر عراق کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا الزام ۔ مورگن اوٹاگوس
واشنگٹن: امریکہ نے باور کرایا ہے کہ وہ عراق کیساتھ طویل المیعاد تعلقات کے قیام کا پابند ہے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے کہا ہیکہ امریکہ عراق کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کا پابند ہے۔اورٹاگوس نے جمعرات کو العربیہ کو بتایا کہ ایران نواز ملیشیا عراق کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونالڈٹرمپ عراق میں ہمارے فوجیوں کی حفاظت کیلئے پرعزم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی اور دوسرے ملکوں کی تنصیبات پر راکٹ حملوں کو روکنے اور حملوں میں ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ کریں گے۔اسرائیل اور لبنان کے مابین سرحدی تنازعات پر انہوں نے کہا کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کو سرحدی کشیدگی کم کرنا ہوگی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کیخلاف ہماری پالیسی مستقل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ حزب اللہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم لبنان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جمعرات کواسسٹنٹ سکریٹری خارجہ ڈیوڈ شینکر نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن عراق میں ایران نواز ملیشیا کے حملے برداشت نہیں کرے گا۔شینکر نے کہا کہ امریکہ عراق میں امریکی فوجیوں کی حفاظت کیلئے کسی اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریگا۔ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس وقت ڈیموکریٹس اور ری پبلکنس انتخابی مہمات میں مصروف ہیں جن میں صدر ٹرمپ شامل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے سیاسی حالات انہوں نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ ان دنوں ملک کے ہر قائد کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں کوروناوائرس کی وباء سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ وباء جلد ہی ختم ہوجائے گی اور ساری دنیا راحت کی سانس لے گی۔ اپنی بات کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں ایران نواز ملیشیا کے حملے برداشت نہیں کریں گے۔
