دوحہ۔3 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعدامریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے دوحہ پہنچنے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں، ایسا امن معاہدہ جس سے فوج کا انخلا ممکن ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی انخلا مشروط ہوگا۔زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں، ہم بھی طالبان کے ساتھ اچھے معاہدے کے لئے تیار ہیں۔واضح رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد دو روزہ دورہ پر یکم اگست کو پاکستان پہنچے تھے ۔اپنے دورے کے دوران زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت اور آئندہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔اس کے علاوہ انہوں نے عمل کی حمایت میں پاکستان کے ادا کیے گئے کردار اور مستقبل میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ طور پر اضافی مثبت اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یاد رہے کہ افغانستان میں 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمہ کیلئے امریکہ کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ راست امریکہ سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے آئے تھے ۔ذرائع کے مطابق ، اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے اور وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن اور افغان تنازعہ کے حل کے لئے اپنی کوششیں کر رہا ہے ۔اسی ضمن میں حال ہی میں امریکہ کے دورہ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کر کے انہیں امن مذاکرات کے لئے قائل کرنے کی کوشش کریں گے ۔
