واشنگٹن : امریکہ کے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکہ سے اسرائیل کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔امریکی سینیٹر نے دی گارڈین اخبار میں اپنے مضمون میں نشاندہی کی کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے غزہ میں سنگین انسانی تباہی کو نظر انداز کیا ہے۔سینڈرز نے نشاندہی کی کہ امریکہ کو نیتن یاہو پر واضح کرنا چاہیے کہ وہ ان کی غیر قانونی جنگ کی حمایت کیلئے مزید رقم نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ کوئی افسوسناک سانحہ نہیں ہے جو ہمارے ساحلوں سے ہزاروں میل دور پیش آیا۔سینڈرز کا کہنا تھا کہ امریکہ ہر سال اسرائیل کو 3.8 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے اور غزہ کو تباہ کرنے والے بم اور فوجی سازوسامان اسرائیل میں تیار کیے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں جو کچھ ہوا اس میں ہم شریک ہیں۔سینڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ٹیم نے غزہ میں اقوام متحدہ عالمی غذائی پروگرام اور دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے ملاقاتیں کیں اور نشاندہی کی کہ اگر خطے میں انسانی امداد کی رسائی میں بہتری نہ لائی گئی تو بہت سے لوگ پیاس ،اسہال، مختلف قسم کی بیماریوں اور بھوک کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔ سینڈرز نے کہا کہ یہ اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے رہنما بنجامن نیتن یاہو اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے انتخاب کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے پانی کی تین پائپ لائنوں میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں اس وقت 5 لاکھ 70 ہزار لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔سینڈرز نے کہاکہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات رک گئی ہیں ۔غزہ میں آج یہی زندگی کے حالات ہیں امریکی عوام اوربائیڈن انتظامیہ کو ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔