امریکہ اور اسرائیل پر ساری دنیا کو جنگ میں جھونکنے کا الزام، فوری جنگ روکنے پر زور

   

ایران پر حملہ کے خلاف چارمینار تا نمائش میدان احتجاجی ریالی، بلا مذہب و ملت سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں سے ہزاروں افراد کی شرکت، فلک شگاف نعرے
حیدرآباد۔29 مارچ (سید اسمعیل ذبیح اللہ )حیدرآباد کی فضائوں میںپھر ایک مرتبہ اسرائیل او رامریکہ مرد ہ باد کے نعرے گونجے ‘ تاریخی چارمینار کے دامن سے پھر ایک مرتبہ حیدرآباد کی عوام نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دنیا بھر میںجہاں پر بھی ظلم وزیادتی ہوتی ہے ‘ معصوم لوگوں کا خون بہایاجاتا ہے ۔ عامریت سڑ چڑھ کر بولنے لگتی ہے تو حیدرآباد کی عوام بلاتفریق ذات پات ‘ مذہب مسلک متحد ہوجاتی ہے اور ظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کے ہاتھوں میں پارٹی جھنڈے تو موجود تھے مگر سیاسی وابستگی سے بالاترہوکر تمام شرکاء اسرائیل او رامریکہ مرد ہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ کمیٹی مخالف جنگ کے زیر اہتمام امریکہ ‘ اسرائیل او رایران کے مابین جاری جنگ کو فوری بند کرنے کی مانگ کرتے ہوئے ایک عظیم الشان ریالی چارمینا رتا نمائش میدان نکالی گئی۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں تنظیمو ںاورانسانی حقوق گروپس کے علاوہ مجلس بچائو تحریک‘ کانگریس‘ عام آدمی پارٹی ‘ تلنگانہ جنا سمیتی ‘ تحریک مسلم شبان‘ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ تعمیرملت‘تنظیم جعفریہ ‘ تحریک خیر امت‘ سارہ کے ذمہ داران نے اس ریالی میںشریک ہوکر اسرائیل او رامریکہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔ چلچلاتی دھوپ میںایران کی تائید وحمایت کرتے ہوئے تقریبا پانچ کیلو میٹر کا یہ راستہ شرکاء نے پیدل طئے کیا۔مخالف امریکہ اور اسرائیل نعرے بازی کرتے ہوئے ریالی نمائش میدان پہنچی اورایک جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔جہاںپر مختلف دائیں بازو کی کلچرل تنظیموں کی جانب سے غزہ اورایران میں معصوم بچوں‘ رہائشی علاقوں‘اسکولوں او راسپتالوں کے ساتھ ساتھ ایمبولنسوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر مشتمل تمثیلی پروگرام پیش کیاگیا ۔ کلچرل تنظیموں کے کارکنوں نے اپنے ہاتھوں میں معصوم بچوں کی علامتی نعشیں تھامے اسرائیل او ر امریکہ کی بربریت پر برہمی کا اظہار کررہے تھے ۔جلسہ کے اختتام پر شکریہ کے فرائض کانگریس لیڈر نظام الدین نے انجام دئے۔ کلچرل تنظیم اروندیاکی صدر ویملا نے غزہ اور ایران کی حمایت میں گیت بھی پیش کیا۔بعدازاں جلسہ عام سے پروفیسر ہرا گوپال ‘ سی پی آئی ایم اور سی پی آئی کے اہم قائدین بی وی راگھولو‘ ڈاکٹر کے نارائنا کے علاوہ چلاپتی رائو‘ مشتاق ملک‘ امجد اللہ خان ‘ مولا نا طارق قادری‘مولانا تقی رضا عابدی‘عمر احمد شریف‘ خالد سیف اللہ ‘سارہ ماتھیوز‘ لبنیٰ ثروت ‘ میر عنایت علی باقری‘جاوید شریف ‘ محمد منیر الدین مجاہد اور بائیں بازو تنظیموں کے دیگر سربراہان نے خطاب کیا۔ پروفیسر کودنڈارام نے اس موقع پر جلسہ عام میںموجود عوام کی تائید وحمایت حاصل کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے ایران پر مسلط جنگ کو فوری روکنے کی مانگ پر مشتمل ایک قرارداد ایوان اسمبلی میںمنظور کرنے کی مانگ کی۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تمام متحدہ طورپر ایران پر جنگ کو غیر ضروری اورغیر قانونی قراردیا۔ امریکہ اور اسرائیل پر ساری دنیا کوجنگ میںجھونکنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ڈالر کی اجارہ داری کو قائم رکھنے او رساری دنیا کے تیل پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کی ہے۔جنگ کے عالمی اثرات پر بھی مقررین نے بات کی او رکہاکہ آج ساری دنیا پٹرول ’ڈیزل اورگیس کی قلت سے دوچار ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔