ابوظہبی : 15 مئی ( ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر کا مختصر دورہ مکمل کر کے متحدہ عرب امارات پہنچیں گے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے رہنما خلیج کو مصنوعی ذہانت کی عالمی سطح پر قیادت کرنے والی قوم بنانے کے لیے امریکی تعاون کی توقع کر رہے ہیں۔امریکہ کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت نویدیا کی پانچ لاکھ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس چپس درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔خلیجی خطے میں صدر ٹرمپ کے چار روزہ دورہ کے دوران کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ان میں قطر ایئرویز کے لیے 210 بوئنگ وائیڈ باڈی جیٹ طیاروں کی خریداری کا معاہدہ، سعودی عرب کی جانب سے امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم، اور مملکت کو 142 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی فروخت شامل ہیں۔اس دورے نے سفارتی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو حیران کن اعلان کیا کہ امریکہ شام کے خلاف طویل عرصے سے عائد پابندیاں ہٹائے گا اور اس کے بعد انہوں نے شام کے عبوری صدر احمد الشارع سے ملاقات کی۔جمعرات کو امریکی صدر العدید ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کریں گے جو قطری دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغربی صحرا میں واقع ہے۔اس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے لیے ابوظبی روانہ ہوں گے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورے کے آخری مرحلے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر فوکس ہوگا۔سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں امریکی چپس کی برآمدات پر سخت نگرانی عائد کی تھی۔بائیڈن انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ قیمتی سیمی کنڈکٹرز چین کو بھیج دیے جائیں گے اور بیجنگ کی فوجی طاقت مضبوط ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے کچھ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اپنی انتظامیہ کا اہم مقصد بنایا ہے۔اگر خلیجی ریاستوں اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں تمام مجوزہ چپ معاہدے ایک ساتھ طے پا گئے تو یہ خطہ امریکہ اور چین کے بعد عالمی مقابلے میں تیسرا طاقت کا مرکز بن جائے گا۔یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر 13 مئی کو ریاض پہنچے تھے۔ صدر ٹرمپ کا دو روزہ سرکاری دورہ سعودی عرب ملاقاتوں، مذاکرات اور معاہدوں سے بھرپور رہا۔سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے ریاض سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تھے۔ امیر قطر اور امریکی صدر نے مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے۔
میں روس ۔یوکرین مذاکرات میں شرکت کرسکتا ہوں : ٹرمپ
دوحہ : 15 مئی ( ایجنسیز) یوکرین اور روس کے درمیان تین سال سے زائد عرصے کے بعد اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کی شرکت کے بغیر پہلے براہِ راست مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔روس خبر رساں ایجنسی ‘آر آئی اے نووستی’ کے مطابق روسی وفد، یوکرین کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے لئے، جمعرات کو ترکیہ پہنچ گیا ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پہلی، روس۔ یوکرین براہِ راست امن بات چیت میں پیش رفت ہونے کی صورت میں وہ ترکیہ کا سفر کر سکتے ہیں۔ٹرمپ نے قطر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “اگر کچھ پیش رفت ہوئی تو میں جمعہ کو ترکیہ جا سکتا ہوں”۔یوکرین قومی سلامتی و دفاعی کونسل کے عہدیدار ‘آندری کووالینکو ‘نے ٹیلیگرام سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صبح 10 بجے مذاکرات کیآغاز سے متعلق خبریں “ہمارے مذاکراتی نظامِ اوقات کے برعکسہیں اور درست نہیں ہیں”۔ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ استنبول میں متوقع مذاکرات ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے کہا ہے کہ”ترکیہ یہاں بڑا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ اس کے تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اسے ایک سنجیدہ مقام سمجھا جاتا ہے۔”یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پوتن کو استنبول میں ذاتی ملاقات کا چیلنج دیا تھا، لیکن روس کے مذاکراتی وفد میں صرف نچلی سطح کی ٹیم شامل ہے۔پوتن نے 15 مئی کو استنبول میں مذاکرات کی تجویز دی تھی، جو یوکرین اور یورپی ممالک کی جانب سے 30 روزہ غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے کے بعد سامنے آئی تھی۔زیلنسکی نے اس تجویز سے اتفاق کیااور رواں ہفتیجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پوتن کی عدم موجودگی اْن کے حقیقی معنوں میں امن میں دلچسپی نہ رکھنے کی طرف اشارہ کرے گی۔زیلنسکی نے کہا ہے کہ “یہ ان کی جنگ ہے۔ لہذا مذاکرات ان کے ساتھ ہونے چاہئیں۔”کریملن نے جمعرات کو کہا ہیکہ پوتن نے مذاکرات سے قبل اپنے وزرائے خارجہ، دفاع، انٹیلیجنس اور فوجی سربراہان کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
ہندوستان میں آپریشنز کو توسیع نہ دیں‘ ٹرمپ کااپیل کمپنی کو مشورہ
واشنگٹن ۔15؍مئی(ایجنسیز ) ہندوستان میں ایپل کمپنی کی توسیع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایپل کے سی ای او ٹم کک سے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کمپنی ہندوستان میں اپنے مینوفیکچرنگ آپریشنز کو وسعت دے جب تک کہ وہ اپنی گھریلو مارکیٹ کو خاص طور پر پورا نہ کرے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہندوستان نے امریکہ پر تمام محصولات ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔مجھے کل ٹم کک کے ساتھ تھوڑا سا مسئلہ تھا۔ میں نے کہا کہ ٹم آپ میرے دوست ہیں۔ آپ یہاں (امریکہ میں) 500 بلین ڈالر کے اعلان کے ساتھ آرہے ہیں اور اب میں نے سنا ہے کہ آپ پورے ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ ہندوستان میں ایساکریں۔ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ایپل نے حکومت ہند کو بتایا ہے کہ ملک میں اس کے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
، جسے وہ اپنے مینوفیکچرنگ فٹ پرنٹ کو بڑھانے کیلئے ایک اہم جغرافیہ کے طور پر دیکھتا ہے۔
افغانستان کی بگرام ائیربیس اپنے پاس رکھیں گے : ٹرمپ
دوحہ۔ 15 مئی (یو این آئی)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کی بگرام ائیربیس اپنے پاس رکھیں گے اور اسے کسی کو نہیں دیں گے ۔قطرکے العدید ائیربیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تنازعات کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ امریکہ اپنے شراکت داروں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال میں نہیں ہچکچائے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ کل قطر نے امریکہ کے ساتھ42 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدوں پردستخط کیے ۔ قطرآئندہ برسوں میں العدید ائیربیس پر 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ کے پاس جلد ایف 47 طیارہ ہوگا۔ ہم ایف35کے جدید ورژن ایف 55 کے بھی منتظر ہیں۔