کابل : امریکہ نے عراق میں سے بھی اپنا جنگی مشن ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عراقی اور امریکی رہنماؤں نے کھلے عام یہ تسلیم نہیں کیا کہ ان دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی کتنی ضرورت ہے۔پیر چھبیس جولائی کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر جو بائیڈن سے عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ملاقات کی تھی۔ دونوں لیڈروں کی بات چیت کو ‘اسٹرٹیجک ڈائیلاگ‘ کا نام دیا گیا۔اس ملاقات میں دونوں ممالک نے سکیورٹی کے تناظر میں کئی اہم اقدامات اٹھانے کا بھی اصولی فیصلہ کیا۔ اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔ اس بیان میں واضح کیا گیا کہ رواں برس عراق میں سے بھی امریکہ اپنا جنگی مشن ختم کر دے گا۔جو بائیڈن اور مصطفیٰ الکاظمی کی ملاقات میں کئی اہم نوعیت کے فیصلے لیے گئے۔ مشترکہ بیان کے مطابق امریکہ اکتیس دسمبر سن 2021 کو عراق میں جاری اپنا جنگی مشن ختم کر دے گا۔اس کے بعد دونوں ملکوں میں قائم سکیورٹی تعلقات کو عراقی فوج کی تربیت، مشاورت، معاونت اور انٹیلیجنس کے تبادلے میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ رواں برس کے اختتام پر عراق میں امریکہ کا کوئی ایسا فوجی نہیں رہے گا جس کا کوئی جنگی کردار ہو گا۔دونوں ملکوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کے زیر استعمال فوجی اڈے کلی طور پر عراقی فوج کے ٹھکانے ہوں گے اور ان میں اگر امریکی موجود بھی ہوں گے تو وہ عراقی قوانین کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔مشترکہ بیان میں صاف کہا گیا کہ عراق میں کوئی بھی غیر ملکی فوجی صرف اور صرف عراقی فوج کی انتہا پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی سرکوبی میں مدد کرے گا۔اس معاہدے پر عراقی پارلیمنٹ یقینی بحث کرے گی لیکن اس کی منظور شدہ قرارداد پر عمل کرنا لازمی نہیں ہو گا۔