واشنگٹن ۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام) سیاہ فام افراد کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد امریکہ بھر میں پولیس اہلکاروں نے استعفیٰ دینا شروع کر دیے ہیں۔مینی پولس شہر کے ترجمان کے مطابق اب تک 7 پولیس اہلکار مستعفی ہو چکے ہیں جب کہ اٹلانٹا پولیس نے بھی ایک ماہ میں 8 پولیس اہلکارو ں کے استعفے کی تصدیق کی ہے۔جنوبی فلوریڈا میں ایس ڈبلیو اے ٹی یونٹ کے 10 اہلکاروں نے استعفیٰ دیا جب کہ نیویارک کے علاقے بوفیلو میں احتجاج کرنے والے بزرگ شہری وک کو دھکا دینے پر 2 اہلکاروں کو معطل کرنیکے خلاف احتجاجاً پولیس کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے 60 اہلکاروں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔ادھر امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے لا اینڈ آرڈر کو یقینی بنانے کے دوران پولیس کے اقدامات سے متعلق اصلاحات کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تنقید کے باوجود ایک بار پھر کہا کہ وہ مینی پولس کی طرح حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے سیاٹل سمیت دیگر شہروں میں نیشنل گارڈز بھیجنے کو تیا ر ہیں، آتش زنی اور لوٹ مار کرنے والوں کو سخت سزا دی جائیگی۔علاوہ ازیں جنوبی افریقا کے دارالحکومت کیپ ٹاؤن میں بھی نسل پرستی کے خلاف احتجاج کیاگیا۔مظاہرین نے پارلیمنٹ کے دروازے پر نصب جنوبی افریقہ کے پہلے وزیراعظم لوئس بوتھا کا مجسمہ ہٹانے کا مطالبہ کیا۔خیال رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں 25 مئی 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے امریکا کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔