واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان تائیوان کے ووٹروں کی جانب سے چین کو مسترد کیے جانے اور حکمراں جماعت کو تیسری صدارتی مدت کے لیے منتخب کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ہفتہ کو تائیوان کی حکمراں ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے صدارتی امیدوار لائی چنگ تے اقتدار میں آئے جنہوں نے چینی دباؤ کو سختی سے مسترد کر دیا اور بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کا عہد کیا۔تائیوان میں ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) تائیوان کی مکمل ا?زادی اور خود مختاری کی حامی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن سے جب سنیچر کو منعقدہ انتخابات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آزادی کی حمایت نہیں کرتے۔‘فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تائیوان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بیجنگ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کا احترام کریں، حقیقت کا سامنا کریں اور تائیوان پر دباؤ ڈالنا چھوڑ دیں۔‘اْدھر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک غیر سرکاری امریکی وفد اتوار کو تائی پے پہنچے گا۔جزیرے کے ڈی فیکٹو امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ وفد جس میں امریکہ کے ایک سابق قومی سلامتی کے مشیر اور سابق نائب وزیر خارجہ شامل ہیں، پیر کو متعدد اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کرے گا۔چین نے اتوار کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ایک بیان کی مذمت کی جس میں لائی چنگ کو جیت پر مبارکباد دی گئی تھی۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم اس کی پْر زور مذمت اور سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔‘امریکہ نے 1979 میں چین کی سفارتی شناخت تائیوان کے بجائے بیجنگ میں تبدیل کر دی تھی اور طویل عرصے سے کہتا رہا ہے کہ وہ تائیوان کی طرف سے آزادی کے باضابطہ اعلان کی حمایت نہیں کرتا۔
