واشنگٹن : امریکی فوجی کارروائیوں میں دیگر ملکوں کے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر امریکہ کو اکثر ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ پنٹگان کو حکم دیا گیا ہے کہ ایک ایسا ‘ایکشن پلان’ بنائے جس سے فوجی حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کیا جا سکے۔امریکہ کی جانب سے متعدد ملکوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران درجنوں عام شہریوں کی بلا جواز ہلاکتوں پر ہونے والی عالمی نکتہ چینی کے بعد وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کے روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کو فوج میں اصلاحات کا حکم دیا تاکہ شہریوں کی بلا ضرورت ہلاکتوں سے بچاجا سکے۔آسٹن نے اس حوالے سے پنٹاگان کے حکام کو ایک منصوبہ تیار کرنے کے لیے 90دن کا وقت دیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے اور بلا جواز کارروائیوں سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور عراق کے تجربات سے سیکھنے اور ایک ادارہ جاتی طریقے سے شہریوں کے نقصان کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یہ حکم ایسے کئی واقعات کے بعد دیا ہے جب امریکی فوجیوں کی جانب سے غیر ضروری شہری ہلاکتوں پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے دوران میں اگست 2021 میں کابل پر امریکی فوج کے ایک ڈرون حملے میں ’’غلطی سے‘‘ سات بچوں سمیت دس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔اسی طرح مارچ 2019 میں عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے آخری دنوں میں امریکی فوج کی بمباری میں تقریباً 70 شہری ہلا ک ہوگئے تھے۔ امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز میں اس خبرکی اشاعت کے بعد پنٹگان کو خاصی سبکی اٹھانی پڑی تھی۔ اخبار نے اسے امریکی فوج کی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی فوج نے اس واقعے کی تحقیقات اور اہلکاروں کا احتساب کرنے سے گریز کیا۔