صدر ٹرمپ کے حامیوں کا کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملہ، واشنگٹن میں کرفیو
تشدد کیلئے ٹرمپ ذمہ دار
سابق صدور اوباما ، بش اور کلنٹن کے بشمول
کئی عالمی قائدین کی جانب سے مذمت
واشنگٹن:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے چہارشنبہ کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔مظاہرین نے کل کیپٹل ہل پر اْس وقت چڑھائی کی جب نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔مظاہرین کیپٹل ہل کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کو دھکیلتے ہوئے عمارت کے اس حصے میں داخل ہو گئے جہاں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اجلاس جاری تھے۔مظاہرین نے کئی ارکان کے دفاتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ پرتشدد احتجاج کے باعث نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے سلسلے میں جاری کانگریس کی کارروائی کو ہنگامی طور پر روکنا پڑا اور ارکانِ کانگریس نے مختلف کمروں اور نشستوں کے پیچھے پناہ لی۔ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مظاہرین کی کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے کئی گھنٹوں بعد اعلان کیا کہ پولیس نے عمارت کو محفوظ بنا لیا ہے۔بعدازاں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا جس میں امریکہ کی تمام 50 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے الیکٹورل ووٹس کی تفصیل باری باری پیش کی گئی جس کی اراکین کانگریس نے توثیق کی۔ کئی نشریاتی اداروں نے کانگریس کی عمارت کے اندر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تصاویر اور ویڈیوز چلائی ہیں جن میں مظاہرین کو عمارت کے مختلف حصوں میں دندناتے دیکھا گیا ۔واشنگٹن کے محکمہ پولیس کے مطابق عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کو گولی بھی لگی جو بعد ازاں دم توڑ گئیں۔اس طرح ملک کے بدترین سیاسی تشد د میں خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ۔ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں سے ایک شخص نے نائب صدر مائیک پینس کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے فون سے سیلفیاں بھی بنائیں جب کہ ایک شخص ایوان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی کے دفتر میں داخل ہوگیا اور ان کی نشست پر جا بیٹھا۔مظاہرین نے سینیٹ اور ایوان کے چیمبرز میں داخل ہو کر صدر ٹرمپ کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔واشنگٹن کی میئر میوریل باوزر نے شہر کی کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے ۔واشنگٹن کے نواحی علاقوں الیگزینڈریا اور آرلنگٹن کے حکام کی درخواست پر بھی وہاں ایک رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ امریکہ میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی کیپٹل ہل کی عمارت میں ہنگامہ آرائی کی سابق امریکی صدور براک اوباما، جارج ڈبلیو بش اور کلنٹن سمیت کئی مقامی اور عالمی رہنماؤں نے تشدد کی مذمت کی ہے۔ مودی نے پُرتشدد واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا پرتشدد واقعات کی خبروں سے وہ دُکھی ہوئے ہیں ۔ اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے ہونا ضروری ہے ۔ تشدد سے جمہوری عمل کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔